کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: منبر بنانے اور (رسول اللہﷺ کے فراق میں) ستون کے رونے کا بیان
حدیث نمبر: 468
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى جِذْعٍ إِذْ كَانَ الْمَسْجِدُ عَرِيشًا، وَكَانَ يَخْطُبُ إِلَى ذَلِكَ الْجِذْعِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لَكَ أَنْ نَجْعَلَ لَكَ مِنْبَرًا تَقُومُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَسْمَعُ النَّاسُ خُطْبَتَكَ؟ قَالَ: "نَعَمْ" . وَصُنِعَ لَهُ ثَلَاثُ دَرَجَاتٍ، هِيَ الَّلَاتِي عَلَى الْمِنْبَرِ فَلَمَّا صُنِعَ الْمِنْبَرُ وَوُضِعَ مَوَاضِعَهُ الَّذِي وَضَعَهُ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُومَ عَلَى ذَلِكَ الْمِنْبَرِ فَيَخْطُبَ عَلَيْهِ، فَمَرَّ إِلَيْهِ، فَلَمَّا جَاوَزَ ذَلِكَ الْجِذْعَ الَّذِي كَانَ يَخْطُبُ إِلَيْهِ خَارَ حَتَّى تَصَدَّعَ وَانْشَقَّ فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا سَمِعَ صَوْتَ الْجِذْعِ فَمَسَحَهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْمِنْبَرِ، فَلَمَّا هُدِمَ الْمَسْجِدُ أَخَذَ ذَلِكَ الْجِذْعَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَكَانَ عِنْدَهُ فِي بَيْتِهِ حَتَّى بَلِيَ، وَأَكَلَتْهُ الْأَرَضَةُ وَعَادَ رُفَاتًا.
حافظ محمد فہد
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بیان فرماتے ہیں جب مسجد کھجور کے چھتوں کی تھی تو رسول اللہ ﷺ ایک تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر نماز پڑھتے، اور اسی تنے کے ساتھ کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک آدمی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا ہم آپ کے لیے منبر نہ بنا دیں کہ آپ جمعہ کے دن اس پر کھڑے ہوں اور لوگ آپ کا خطبہ سنیں؟“ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ٹھیک ہے“۔ جب یہ منبر بنا تو اس پر تین سیڑھیاں تھیں، اور اس کو اس جگہ رکھا گیا جہاں رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا، نبی ﷺ کو یہ بات کہی گئی کہ آپ اس پر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمائیں۔ جب آپ اس تنے کے پاس سے گزرے جس کے قریب خطبہ دیتے تھے تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا حتی کہ شدتِ غم سے اس کی آواز پھٹ گئی۔ جب نبی ﷺ نے اس تنے (کے رونے) کی آواز سنی تو آپ منبر سے اترے اور اس تنے کو دلاسہ دیا، پھر منبر پر تشریف لے آئے۔ جب مسجد گرائی گئی تو یہ تنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے لے لیا اور یہ انہی کے گھر رہا یہاں تک کہ بوسیدہ ہو گیا، اور اسے دیمک نے کھا لیا اور یہ ریزہ ریزہ ہو گیا۔
حدیث نمبر: 469
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ اسْتَنَدَ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا صُنِعَ لَهُ الْمِنْبَرُ فَاسْتَوَى عَلَيْهِ اضْطَرَبَتْ تِلْكَ السَّارِيَةُ كَحَنِينِ النَّاقَةِ حَتَّى سَمِعَهَا أَهْلُ الْمَسْجِدِ، حَتَّى نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَنَقَهَا فَسَكَتَتْ.
حافظ محمد فہد
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ خطبہ ارشاد فرماتے تو مسجد کے ستونوں میں سے ایک تنے کے ساتھ ٹیک لگاتے۔ جب آپ ﷺ کے لیے منبر بنا دیا گیا اور آپ اس پر تشریف فرما ہوئے تو یہ ستون بے چین ہو گیا جیسے اونٹنی کا چھوٹا بچہ بے چین ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ مسجد والوں نے اس کی بے چینی کو سنا حتی کہ رسول اللہ ﷺ منبر سے نیچے تشریف لائے اور اس کو دلاسہ دیا (پیار کیا)۔
حدیث نمبر: 470
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: سَأَلُوا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ مِنْبَرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: مَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، مِنْ أَثْلِ الْغَابَةِ، عَمِلَهُ لَهُ فُلَانٌ مَوْلَى فُلَانَةَ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ صَعِدَ عَلَيْهِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَكَبَّرَ، ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ صَعِدَ فَقَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى ثُمَّ سَجَدَ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ إِيجَابِ الْجُمُعَةِ وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ الْإِمَامَةِ.
حافظ محمد فہد
ابو حازم سے روایت ہے وہ بیان فرماتے ہیں کہ انہوں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ نبی ﷺ کا منبر کس چیز سے بنا ہوا تھا؟ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”زندہ لوگوں میں سے مجھ سے بڑھ کر یہ کوئی بھی نہیں جانتا، وہ غابہ کے جھاؤ سے بنا تھا۔ فلاں عورت کے آزاد کردہ فلاں غلام نے بنایا تھا اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا جب آپ ﷺ اس پر تشریف فرما ہوئے تو آپ ﷺ نے قبلہ کی طرف منہ کیا، پھر تکبیر کہی، پھر قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر پیچھے کو اترے اور سجدہ کیا، پھر منبر پر تشریف لے گئے اور قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر نیچے کو اتر کر سجدہ کیا۔“