حدیث نمبر: 458
حَدَّثَنَا الْأَصَمُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّافِعِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّهُ قَالَ: أَبْصَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَجُلًا عَلَيْهِ هَيْئَةُ السَّفَرِ، فَسَمِعَهُ يَقُولُ: لَوْلَا أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ لَخَرَجْتُ، فَقَالَ عُمَرُ: اخْرُجْ، فَإِنَّ الْجُمُعَةَ لَا تَحْبِسُ عَنْ سَفَرٍ.
حافظ محمد فہد
اسود بن قیس اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک مسافر کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اگر آج جمعہ کا دن نہ ہوتا تو میں سفر کو نکل جاتا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سفر پر نکل جاؤ کہ جمعہ آدمی کو سفر سے نہیں روکتا۔“
حدیث نمبر: 459
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ: دُعِيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لِسَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، وَهُوَ يَمُوتُ وَابْنُ عُمَرَ يَسْتَحِمُّ لِلْجُمُعَةِ فَأَتَاهُ وَتَرَكَ الْجُمُعَةَ.
حافظ محمد فہد
اسماعیل بن عبد الرحمن بن ابی ذئب کہتے ہیں: عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے فوت ہونے پر (جنازہ کے لیے) بلایا گیا۔ جبکہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جمعہ کے لیے غسل فرما رہے تھے۔ آپ جنازہ کے لیے گئے اور جمعہ چھوڑ دیا۔
حدیث نمبر: 460
وَأُخْبِرْتُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِثْلَهُ أَوْ مِثْلَ مَعْنَاهُ. أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْأَمَالِي، وَهِيَ أَوَّلُ مَا فِيهِ.
حافظ محمد فہد
ایک دوسری سند سے نافع رحمہ اللہ کے واسطہ سے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس طرح یا اس کے ہم معنی روایت مروی ہے۔