کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا بیان: ”اور جب وہ کسی تجارت یا کھیل کو دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ جاتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ دیتے ہیں“
حدیث نمبر: 454
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَكَانَتْ لَهُ سُوقٌ، يُقَالُ لَهَا: الْبَطْحَاءُ، كَانَتْ بَنُو سُلَيْمٍ يَجْلِبُونَ إِلَيْهَا الْخَيْلَ وَالْإِبِلَ وَالْغَنَمَ وَالسَّمْنَ، فَقَدِمُوا فَخَرَجَ إِلَيْهِمُ النَّاسُ وَتَرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ لَهُمْ لَهْوٌ إِذَا تَزَوَّجَ أَحَدُهُمْ مِنَ الْأَنْصَارِ ضَرَبُوا بِالْكَبَرِ فَعَيَّرَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى بِذَلِكَ فَقَالَ: وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا [الْجُمُعَةِ: 11] .
حافظ محمد فہد
جعفر بن محمد اپنے باپ سے بیان فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جمعہ کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ ایک بازار جس کا نام ”بطحاء“ تھا، بنو سلیم قبیلہ کے لوگ اپنے گھوڑے، اونٹ، گائیں اور گھی اس میں لا کر بیچتے تھے۔ وہ جمعہ کے وقت آئے تو لوگ اس بازار کی طرف نکل آئے، تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو کھڑے ہی چھوڑ دیا۔ اور جب ان انصار میں سے کوئی شادی کرتا تو وہ طبلہ بجاتے تھے یہ ان کے لیے کھیل تماشا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اس پر عار دلاتے ہوئے فرمایا: ”اور جب وہ تجارت دیکھیں یا کوئی تماشا نظر آ جائے تو آپ کو کھڑا چھوڑ کر اس کی طرف دوڑ جاتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 455
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ مِنْ غَيْرِ ضَرُورَةٍ كُتِبَ مُنَافِقًا فِي كِتَابٍ لَا يُمْحَى وَلَا يُبَدَّلُ" . وَفِي بَعْضِ الْحَدِيثِ: "ثَلَاثًا" .
حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس نے بغیر ضرورت کے جمعہ چھوڑ دیا وہ اللہ کے ہاں ایک ایسی کتاب میں منافق لکھ دیا گیا، جس کتاب کا لکھا ہوا نہ تو مٹ سکتا ہے اور نہ ہی بدلتا ہے۔“ بعض روایات میں ہے کہ آپ ﷺ نے یہ الفاظ تین دفعہ فرمائے۔
حدیث نمبر: 456
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: "لَا يَتْرُكُ أَحَدٌ الْجُمُعَةَ ثَلَاثًا تَهَاوُنًا بِهَا إِلَّا طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ" . قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَفِي بَعْضِ الْحَدِيثِ: "ثَلَاثًا" .
حافظ محمد فہد
ابوالجعد الضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب کوئی مسلسل تین جمعے سستی سے چھوڑ دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتے ہیں۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض روایات میں ہے آپ ﷺ نے یہ الفاظ تین دفعہ ارشاد فرمائے۔
حدیث نمبر: 457
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ يَقُولُ: لَا يَتْرُكُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ الْجُمُعَةَ ثَلَاثًا تَهَاوُنًا لَا يَشْهَدُهَا إِلَّا كُتِبَ مِنَ الْغَافِلِينَ. أَخْرَجَ الْأَرْبَعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ إِيجَابِ الْجُمُعَةِ.
حافظ محمد فہد
عمرو بن ابی امیہ فرماتے ہیں: ”جو مسلمان آدمی تین جمعے سستی سے مسلسل چھوڑ دے کہ وہ جمعہ پڑھنے نہ آیا تو وہ غافلوں میں سے لکھ دیا گیا۔“