حدیث نمبر: 389
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ.
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رات کے ہر حصہ میں وتر پڑھے اور آخری عمر میں آپ کے وتر (عموماً) سحر کے وقت ختم ہوتے تھے۔
حدیث نمبر: 390
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ بِخَمْسِ رَكَعَاتٍ، لَا يَجْلِسُ وَلَا يُسَلِّمُ إِلَّا فِي الْآخِرَةِ مِنْهُنَّ.
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ پانچ رکعات وتر پڑھتے، ان رکعات میں صرف آخری رکعت میں تشہد بیٹھتے اور پھر سلام پھیر دیتے۔
حدیث نمبر: 391
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ: أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ كَانَ يُوتِرُ بِرَكْعَةٍ.
حافظ محمد فہد
ابن شہاب سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ایک رکعت وتر پڑھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 392
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِمَكَّةَ وَالسَّمَاءُ مُتَغَيِّمَةٌ، فَخَشِيَ ابْنُ عُمَرَ الصُّبْحَ، فَأَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ ثُمَّ تَكَشَّفَ الْغَيْمُ، فَرَأَى عَلَيْهِ لَيْلًا فَشَفَعَ بِوَاحِدَةٍ.
حافظ محمد فہد
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے بیان فرماتی ہیں میں مکہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا اور آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے، ابن عمر رضی اللہ عنہما صبح صادق کے طلوع ہونے سے ڈرے تو انہوں نے ایک رکعت وتر پڑھا، پھر بادل چھٹ گئے، اور انہوں نے رات دیکھی تو ایک اور رکعت سے اسے جفت بنا لیا۔
حدیث نمبر: 393
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُسَلِّمُ بَيْنَ الرَّكْعَةِ وَالرَّكْعَتَيْنِ مِنَ الْوِتْرِ حَتَّى يَأْمُرَ بِبَعْضِ حَاجَتِهِ.
حافظ محمد فہد
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جب تین رکعت وتر پڑھتے تو دو پڑھ کر سلام پھیرتے پھر ضرورت سے گفتگو بھی فرماتے۔
حدیث نمبر: 394
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُتْبَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ رَأَى مُعَاوِيَةَ صَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِرَكْعَةٍ وَاحِدَةٍ وَلَمْ يَزِدْ عَلَيْهَا، فَأَخْبَرَ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: أَصَابَ، أَيْ بُنَيَّ، لَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا أَعْلَمَ مِنْ مُعَاوِيَةَ، هِيَ وَاحِدَةٌ أَوْ خَمْسٌ أَوْ سَبْعٌ، إِلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، الْوِتْرُ مَا شَاءَ.
حافظ محمد فہد
کریب ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا انہوں نے عشاء کی نماز پڑھی، پھر ایک رکعت وتر کے علاوہ کچھ نہ پڑھا۔ کریب رحمہ اللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بات بیان کی تو انہوں نے فرمایا: ”انہوں نے درست کہا، اے بیٹے! معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر ہم میں سے کوئی اس بارے میں زیادہ نہیں جانتا۔ یہ وتر ایک یا پانچ یا سات سے بھی زیادہ ہیں۔ جتنے چاہے کوئی پڑھے۔“
حدیث نمبر: 395
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيَّ عَنْ صَلَاةِ طَلْحَةَ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ أَخْبَرْتُكَ عَنْ صَلَاةِ عُثْمَانَ، قَالَ: قُلْتُ لَأَغْلِبَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى الْمَقَامِ، فَقُمْتُ فَإِذَا بِرَجُلٍ يَزْحَمُنِي مُتَقَنِّعًا فَنَظَرْتُ فَإِذَا عُثْمَانُ قَالَ: فَتَأَخَّرْتُ عَنْهُ فَصَلَّى فَإِذَا هُوَ يَسْجُدُ سُجُودَ الْقُرْآنِ حَتَّى إِذَا قُلْتُ: هَذِهِ هَوَادِي الْفَجْرِ فَأَوْتَرَ بِرَكْعَةٍ لَمْ يُصَلِّ غَيْرَهَا.
حافظ محمد فہد
سائب بن یزید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عبدالرحمن التیمی سے طلحہ رضی اللہ عنہ کی نماز سے متعلق دریافت کیا، تو عبدالرحمن التیمی نے کہا اگر تو چاہے تو میں تجھے عثمان رضی اللہ عنہ کی نماز سے متعلق بتاؤں۔ فرمایا میں نے کہا ایک جگہ رات کا وقت ہو گیا اچانک میں اٹھا تو ایک آدمی جو سر ڈھانپے ہوئے تھا مجھ سے ٹکرایا، میں نے دیکھا تو وہ عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔ میں ان سے پیچھے ہو گیا انہوں نے نماز پڑھی، تو وہ قرآن کے سجدے کرتے یہاں تک کہ میں نے کہا: فجر طلوع ہو رہی ہے تو انہوں نے ایک رکعت وتر کے علاوہ کچھ نہ پڑھا۔
حدیث نمبر: 396
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَبِي هَارُونَ الْغَنَوِيِّ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: الْوِتْرُ ثَلَاثَةُ أَنْوَاعٍ، فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يُوتِرَ أَوَّلَ اللَّيْلِ أَوْتَرَ، ثُمَّ إِنِ اسْتَيْقَظَ فَشَاءَ أَنْ يَشْفَعَهَا بِرَكْعَةٍ وَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى يُصْبِحَ، وَإِنْ شَاءَ أَوْتَرَ آخِرَ اللَّيْلِ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ وَإِلَى آخِرِ الْخَامِسِ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ وَالسَّادِسَ وَالسَّابِعَ مِنْ كِتَابِ الْعِيدَيْنِ، وَهُمَا آخِرُ مَا فِيهِ وَالثَّامِنَ مِنْ كِتَابِ اخْتِلَافِ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ مِمَّا لَمْ يَسْمَعِ الرَّبِيعُ مِنَ الشَّافِعِيِّ.
حافظ محمد فہد
حطان بن عبداللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے بیان فرماتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وتر تین قسم کے ہیں تم میں سے جو رات کے پہلے حصہ میں پڑھنا چاہے وہ پہلے میں پڑھ لے، پھر اگر بیدار ہو تو چاہے تو اس کو ایک رکعت سے جفت بنا کر دو دو رکعتیں پڑھے یہاں تک کہ صبح صادق ہو جائے اور اگر چاہے تو رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھے۔“