حدیث نمبر: 360
حَدَّثَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ؟ كَانَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَهُوَ فِي مَنْزِلِهِ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الزَّوَالِ، فَإِذَا سَافَرَ قَبْلَ أَنْ تَزُولَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعَصْرِ فِي وَقْتِ الْعَصْرِ، قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ فِي الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ مِثْلَ ذَلِكَ.
حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان فرماتے ہیں: ”کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی سفر کی نماز کے متعلق نہ بتاؤں؟ آپ گھر میں ہوتے اور سورج ڈھل جاتا تو ظہر اور عصر کو زوال کے وقت جمع کر لیتے، اور اگر سورج کے زوال سے قبل سفر کرتے تو ظہر کو لیٹ کرتے یہاں تک کہ ظہر اور عصر کو عصر کے وقت میں جمع کر لیتے۔“ کریب رحمہ اللہ کہتے ہیں آپ نے میرے خیال کے مطابق مغرب اور عشاء کے متعلق بھی اسی طرح کہا۔
حدیث نمبر: 361
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ قَالَ: فَأَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ ثُمَّ دَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا.
حافظ محمد فہد
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تبوک والے سال (سفر میں) نکلے۔ اور رسول اللہ ﷺ ظہر، عصر اور مغرب، عشاء کو جمع کر لیتے۔ فرمایا: ”ایک دن نماز لیٹ کی پھر نکلے اور ظہر، عصر پڑھی۔ پھر آئے اور بعد میں پھر (سفر کو) نکلے تو مغرب اور عشاء اکٹھی پڑھی۔“ [فوائد: 1. دورانِ سفر دو نمازیں جمع کر کے پڑھنا جائز ہے۔ 2. دورانِ سفر نمازوں میں تقدیم و تاخیر یعنی ظہر کو عصر کے وقت میں اور مغرب کو عشاء کے وقت میں یا عصر کو ظہر کے وقت اور عشاء کو مغرب کے وقت میں پڑھنا جائز ہے۔ 3. غزوہ تبوک شام کے عیسائیوں کے خلاف تھا جو مسلمانوں پر حملہ کرنا چاہتے تھے۔ یہ غزوہ رجب 9 ہجری میں ہوا اس میں مسلمانوں کی تعداد تیس ہزار تھی اس کو غزوۃ العسرۃ (تنگی کی جنگ) بھی کہا جاتا ہے۔ 4. معلوم ہوا خلیفہ بذات خود فوج کی کمانڈ کر سکتا ہے۔]
حدیث نمبر: 362
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذِئْبٍ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ إِلَى الْجَمَّاءِ فَغَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَهِبْنَا [ ص: 334 ] أَنْ نَقُولَ لَهُ: انْزِلْ فَصَلِّ، فَلَمَّا ذَهَبَ بَيَاضُ الْأُفُقِ، وَفَحْمَةُ الْعِشَاءِ نَزَلَ فَصَلَّى ثَلَاثًا، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ.
حافظ محمد فہد
اسماعیل بن عبدالرحمن بن ابی ذئب الاسدی سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ جماء مقام کی طرف گئے، سورج غروب ہو گیا، ہم انہیں یہ کہنے سے ڈر رہے تھے کہ سواریوں سے اتریں تاکہ نماز پڑھ لیں، جب آسمان کی سفیدی غائب ہو گئی اور رات کی ابتدائی سیاہی آ گئی، تو وہ سواری سے اترے اور تین رکعات نماز پڑھی پھر سلام پھیرا، پھر دو رکعتیں پڑھیں اور سلام پھیرا، پھر ہمیں مخاطب کر کے فرمایا: ”میں نے دیکھا رسول اللہ ﷺ نے اس طرح کیا۔“
حدیث نمبر: 363
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَجِلَ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ.
حافظ محمد فہد
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کو جب سفر کے لیے جلدی چلنا ہوتا تو آپ ﷺ مغرب اور عشاء جمع کر لیتے۔
حدیث نمبر: 364
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَجِلَ بِهِ السَّيْرُ يَجْمَعُ بَيْنَ الْعِشَاءِ وَالْمَغْرِبِ.
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کو جب سفر کے لیے جلدی جانا ہوتا تو آپ عشاء اور مغرب جمع کر لیتے۔
حدیث نمبر: 365
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي سَفَرِهِ إِلَى تَبُوكَ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الْأَمَالِي وَإِلَى آخِرِ الرَّابِعِ مِنْ كِتَابِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ وَالْخَامِسَ وَالسَّادِسَ مِنْ كِتَابِ اخْتِلَافِ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ مِمَّا لَمْ يَسْمَعِ الرَّبِيعُ مِنَ الشَّافِعِيِّ.
حافظ محمد فہد
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ظہر، عصر اور مغرب، عشاء کو اپنے تبوک کے سفر میں جمع کرتے تھے۔