کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: سفر میں قصر کرنے، پوری نماز پڑھنے اور صرف فرض پر اکتفا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 356
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كُلُّ ذَلِكَ قَدْ فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصَرَ الصَّلَاةَ فِي السَّفَرِ وَأَتَمَّ.
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سفر میں نماز قصر بھی کی اور مکمل بھی پڑھی۔
حدیث نمبر: 357
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أَوَّلُ مَا فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، فَزِيدَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ، وَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ، قُلْتُ: فَمَا شَأْنُ عَائِشَةَ كَانَتْ تُتِمُّ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: إِنَّهَا تَأَوَّلَتْ مَا تَأَوَّلَ عُثْمَانُ.
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: پہلے نماز دو دو رکعتیں فرض کی گئی، حالتِ اقامت کی نمازوں میں زیادتی کر دی گئی اور سفر کی نماز اپنی حالت پر باقی رکھی گئی۔ زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے پوچھا تو پھر خود عائشہ رضی اللہ عنہا سفر میں کیوں پوری پڑھتی تھیں؟ عروہ نے جواب دیا کہ جو تاویل عثمان رضی اللہ عنہ نے کی تھی وہی انہوں نے بھی کر لی۔
حدیث نمبر: 358
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي وَرَاءَ الْإِمَامِ بِمِنًى أَرْبَعًا، فَإِذَا صَلَّى لِنَفْسِهِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ.
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ جب منیٰ میں امام کے پیچھے پڑھتے تو چار (فرض) پڑھتے اور جب خود پڑھتے تو دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 359
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُصَلِّي مَعَ الْفَرِيضَةِ فِي السَّفَرِ شَيْئًا قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا إِلَّا مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ وَالثَّالِثَ وَالرَّابِعَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ.
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ سفر میں فرضی نماز کے ساتھ پہلے یا بعد میں کچھ نہیں پڑھتے تھے، مگر یہ کہ تہجد کی نماز۔