کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: قصر نماز صدقہ ہے اور سفر میں قصر کرنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 353
حَدَّثَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: ذَكَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْقَصْرَ فِي الْخَوْفِ فَأَنَّى الْقَصْرُ فِي غَيْرِ الْخَوْفِ؟ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ، فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ" .
حافظ محمد فہد
یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بیان فرماتے ہیں میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”اللہ تعالیٰ نے خوف کی حالت میں تو قصر کا ذکر کیا ہے، لیکن خوف کے علاوہ قصر کہاں ہے؟“ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھے بھی اس چیز نے حیرت میں ڈالا جس سے آپ حیران ہیں۔ تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ صدقہ ہے جو اللہ نے تم پر کیا ہے تم اس کے صدقے کو قبول کرو۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الصلاة / حدیث: 353
تخریج حدیث أخرجه مسلم: صلاة المسافرين، باب صلاة المسافرين وقصرها: 686.
حدیث نمبر: 354
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنِ ابْنِ [ ص: 330 ] جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا [النِّسَاءِ: 101] فَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ؟ فَقَالَ عُمَرُ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا عَلَيْكُمْ، فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ" .
حافظ محمد فہد
یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بیان فرماتے ہیں میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم نمازوں کو قصر کرو، اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر ستائیں گے [النساء: 101] اب تو لوگوں کو امن ہے؟“ تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھے بھی اس بات پر تعجب ہوا تھا جس پر آپ کو ہوا ہے تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ صدقہ ہے، صدقہ کیا ہے لہٰذا تم اس کے صدقے کو قبول کرو۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الصلاة / حدیث: 354
تخریج حدیث أخرجه مسلم: صلاة المسافرين، باب صلاة المسافرين وقصرها: 686.
حدیث نمبر: 355
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ حَرْمَلَةَ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "خِيَارُكُمُ الَّذِينَ إِذَا سَافَرُوا قَصَرُوا الصَّلَاةَ، وَأَفْطَرُوا" أَوْ قَالَ: "لَمْ يَصُومُوا" . أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الْأَمَالِي وَالثَّانِيَ وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ.
حافظ محمد فہد
ابن المسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے وہ لوگ بہترین ہیں جو جب سفر کریں تو نماز قصر کریں اور روزہ افطار کریں“ یا فرمایا: ”جو روزہ نہ رکھیں۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الصلاة / حدیث: 355
تخریج حدیث إسناده ضعيف لإرساله: وشيخ الشافعي متروك. أخرجه البيهقي في معرفة السنن والآثار: 1514 - وعبد الرزاق: 4480.