کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: وہ مسافت جس میں نماز قصر نہیں ہوتی اور وہ جس میں قصر کی جائے گی
حدیث نمبر: 346
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ: أَنَّهُ كَانَ يُسَافِرُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ الْبَرِيدَ فَلَا يَقْصُرُ الصَّلَاةَ.
حافظ محمد فہد
نافع سے روایت ہے کہ وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک برید سفر کرتے تو وہ (اس سفر میں) نماز قصر نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 347
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّهُ سُئِلَ: أَتُقْصَرُ الصَّلَاةُ إِلَى عَرَفَةَ؟ فَقَالَ: لَا، وَلَكِنْ إِلَى عُسْفَانَ وَإِلَى جُدَّةَ وَإِلَى الطَّائِفِ.
حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ان سے پوچھا گیا: ”کیا عرفہ تک نماز قصر کی جائے گی؟“ فرمایا: ”نہیں بلکہ عسفان، جدہ اور طائف تک (سفر کی صورت میں) قصر ہو گی۔“
حدیث نمبر: 348
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَكِبَ إِلَى ذَاتِ النَّصَبِ، فَقَصَرَ الصَّلَاةَ فِي مَسِيرَةِ ذَلِكَ. قَالَ مَالِكٌ: وَبَيْنَ ذَاتِ النُّصْبِ وَالْمَدِينَةِ أَرْبَعُ بُرُدٍ.
حافظ محمد فہد
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ”ذات النصب“ کی طرف سفر کیا، اور اس راستے میں نماز قصر کی۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مدینہ اور ذات النصب کے درمیان چار برید کا فاصلہ ہے۔
حدیث نمبر: 349
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّهُ رَكِبَ إِلَى رِيمٍ فَقَصَرَ الصَّلَاةَ فِي مَسِيرِهِ ذَلِكَ. قَالَ مَالِكٌ: وَذَلِكَ نَحْوٌ مِنْ أَرْبَعَةِ بُرُدٍ.
حافظ محمد فہد
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ریم (مدینہ کے قریب جگہ کا نام) کی طرف سوار ہو کر گئے، اور اس راستے میں نماز قصر پڑھی۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ بھی مدینہ سے چار برید پر واقع ہے۔
حدیث نمبر: 350
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ أَقْصُرُ إِلَى عَرَفَةَ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ إِلَى جُدَّةَ وَعُسْفَانَ وَالطَّائِفِ، وَإِنْ قَدِمْتَ عَلَى أَهْلٍ أَوْ مَاشِيَةٍ فَأَتِمَّ، قَالَ: وَهَذَا قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ، وَبِهِ نَأْخُذُ.
حافظ محمد فہد
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ بیان فرماتے ہیں میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: ”کیا میں عرفہ تک قصر کروں؟“ انہوں نے فرمایا: ”نہیں بلکہ جدہ، عسفان اور طائف تک، اور اگر تو خاندان کے ساتھ آئے یا پیدل تو مکمل پڑھ۔“ عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں: اور یہی قول ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ہے اور ہم اس پر عمل کریں گے۔
حدیث نمبر: 351
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ [ ص: 329 ] ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: تُقْصَرُ الصَّلَاةُ إِلَى عُسْفَانَ وَإِلَى الطَّائِفِ وَإِلَى جُدَّةَ وَهَذَا كُلُّهُ مِنْ مَكَّةَ عَلَى أَرْبَعَةِ بُرُدٍ وَنَحْوٍ مِنْ ذَلِكَ.
حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے فرمایا: عسفان، طائف اور جدہ تک نماز قصر کی جائے گی۔ اور یہ ساری جگہیں مکہ سے چار برید پر ہیں اور اسی طرح اتنی مسافت پر موجود جگہوں میں بھی قصر ہے۔
حدیث نمبر: 352
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ خَرَجَ إِلَى ذَاتِ النُّصْبِ فَقَصَرَ الصَّلَاةَ. قَالَ مَالِكٌ: وَهِيَ أَرْبَعَةُ بُرُدٍ. أَخْرَجَ الْأَرْبَعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ، وَالْخَامِسَ مِنْ كِتَابِ الْأَمَالِي، وَالسَّادِسَ وَالسَّابِعَ مِنْ كِتَابِ اخْتِلَافِ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ مِمَّا لَمْ يَسْمَعِ الرَّبِيعُ مِنَ الشَّافِعِيِّ.
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ ذات النصب کی طرف نکلے اور انہوں نے نماز قصر پڑھی۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اور یہ چار برید پر ہے۔