کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: جس کا وضو ٹوٹ گیا ہو، یا جسے پیشاب یا پاخانے کی شدت سے حاجت ہو (اس کی نماز کا بیان)
حدیث نمبر: 323
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ فِي صَلَاةٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ، ثُمَّ أَشَارَ بِيَدِهِ: امْكُثُوا ثُمَّ رَجَعَ عَلَى جِلْدِهِ أَثَرُ الْمَاءِ.
حافظ محمد فہد
عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے نمازوں میں سے کسی نماز میں تکبیر کہی، پھر ہاتھ سے اشارہ کیا ”ٹھہرو“، پھر واپس لوٹے تو آپ کی جلد پر پانی کے اثرات تھے۔
حدیث نمبر: 324
أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ مَعْنَاهُ.
حافظ محمد فہد
ایک دوسری سند سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نبی ﷺ سے اسی سابقہ حدیث کے ہم معنی مروی ہے
حدیث نمبر: 325
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامٍ، يَعْنِي: ابْنَ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ: أَنَّهُ كَانَ يَؤُمُّ أَصْحَابَهُ يَوْمًا، فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمُ الْغَائِطَ، فَلْيَبْدَأْ بِهِ قَبْلَ الصَّلَاةِ" .
حافظ محمد فہد
عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کو ایک دن نماز پڑھا رہے تھے تو وہ قضائے حاجت کے لیے چلے گئے (کسی کو مصلائے امامت پر کھڑا کر کے) پھر واپس آئے تو فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ”جب تم میں سے کوئی پاخانہ کی حاجت محسوس کرے تو نماز سے پہلے اس سے فراغت حاصل کر لے۔“
حدیث نمبر: 326
أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ، عَنْ هِشَامٍ، يَعْنِي: ابْنَ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ: أَنَّهُ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ فَصَحِبَهُ قَوْمٌ، فَكَانَ يَؤُمُّهُمْ، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَقَدَّمَ رَجُلًا، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَوَجَدَ أَحَدُكُمُ الْغَائِطَ، فَلْيَبْدَأْ بِالْغَائِطِ" . أَخْرَجَ الْأَرْبَعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْإِمَامَةِ.
حافظ محمد فہد
عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مکہ کی جانب نکلے تو ان کی ایک قوم نے رفاقت اختیار کی، وہ انہیں امامت کرواتے تھے، (ایک دفعہ) نماز کھڑی کی اور ایک آدمی کو پکڑ کر آگے کر دیا، اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب جماعت کھڑی ہو جائے اور تم میں سے کسی کو پاخانہ کی حاجت ہو تو وہ پہلے پاخانہ سے فارغ ہو۔“