حدیث نمبر: 299
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ: أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يَؤُمُّ قَوْمَهُ وَهُوَ أَعْمَى، وَأَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهَا تَكُونُ الظُّلْمَةُ وَالْمَطَرُ وَالسَّيْلُ، وَأَنَا رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ، فَصَلِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِي بَيْتِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى. فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ تُصَلِّيَ؟" فَأَشَارَ إِلَى مَكَانٍ مِنْ بَيْتٍ، فَصَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ محمد فہد
محمود بن ربیع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے امام تھے اور وہ نابینے تھے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی: ”میں نابینا آدمی ہوں اور (بسا اوقات) اندھیرا، بارش اور سیلاب ہوتا ہے تو اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے گھر میں کسی جگہ نماز پڑھ لیجیے تاکہ میں اسے جائے نماز بنا لوں۔“ پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا: ”آپ کہاں نماز پڑھنا پسند کرو گے؟“ انہوں نے گھر میں ایک جگہ کی طرف اشارہ کیا، اور رسول اللہ ﷺ نے وہاں نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 300
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ: أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يَؤُمُّ قَوْمَهُ وَهُوَ أَعْمَى. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْإِمَامَةِ.
حافظ محمد فہد
محمود بن ربیع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عتبان بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ نابینا صحابی تھے اور اپنی قوم کو امامت کرواتے تھے۔