کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: امام کے ساتھ نماز دہرانے اور کن صورتوں میں نہ دہرانے کا بیان
حدیث نمبر: 279
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الدِّيلِ، يُقَالُ لَهُ: بُسْرُ بْنُ مِحْجَنٍ، عَنْ أَبِيهِ مِحْجَنٍ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذَّنَ بِالصَّلَاةِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى، وَمِحْجَنٌ فِي مَجْلِسِهِ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ النَّاسِ؟ أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ؟" قَالَ: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَكِنْ كُنْتُ قَدْ صَلَّيْتُ فِي أَهْلِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا جِئْتَ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ، وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ" .
حافظ محمد فہد
محجن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ نماز کے لیے اذان ہوئی، تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی، اور محجن اپنی جگہ پر ہی بیٹھے رہے، رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا: ”آپ نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہ پڑھی؟ کیا آپ مسلمان نہیں؟“ محجن نے کہا: ”ہاں اے اللہ کے رسول ﷺ! میں مسلمان ہوں لیکن میں نے اپنے گھر میں نماز پڑھ لی تھی۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو (مسجد) آئے تو لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ، اگرچہ تو پڑھ چکا ہو۔“
حدیث نمبر: 280
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: مَنْ صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالصُّبْحَ، ثُمَّ أَدْرَكَهُمَا مَعَ الْإِمَامِ فَلَا يُعِيدَنَّهُمَا. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.
حافظ محمد فہد
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ جس نے مغرب اور صبح کی نماز پڑھ لی، پھر ان نمازوں کو امام کے ساتھ بھی پا لیا تو وہ ان کو ہرگز نہ (دوبارہ) پڑھے۔