کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: عشاء کی نماز میں باجماعت شریک نہ ہونے والوں پر وعید کا بیان
حدیث نمبر: 274
أَخْبَرَنَا الْأَصَمُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَيُحْطَبَ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَيُؤَذَّنَ بِهَا، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيَؤُمَّ النَّاسَ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَظْمًا سَمِينًا أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ لَشَهِدَ الْعِشَاءَ" .
حافظ محمد فہد
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے: میں نے ارادہ کیا کہ میں لکڑیاں جمع کرنے کا حکم کروں، پھر نماز کے لیے اذان کا حکم دوں اور اذان کہی جائے، پھر کسی کو لوگوں کو نماز پڑھانے کے لیے کہوں، پھر میں ان لوگوں کی طرف جاؤں (جو نماز میں شریک نہیں ہوتے) اور ان کے گھروں کو ان پر آگ لگا دوں۔ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ان میں سے کسی کو اگر یہ علم ہو جائے کہ اسے گوشت سے پر موٹی ہڈی یا دو اچھے پائے مل جائیں گے، تو نمازِ عشاء میں لپک کر آ جائے۔“
حدیث نمبر: 275
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُنَافِقِينَ شُهُودُ الْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ لَا يَسْتَطِيعُونَهُمَا" أَوْ نَحْوَ هَذَا.
حافظ محمد فہد
عبدالرحمن بن حرملہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہمارے اور منافقوں کے درمیان فرق عشاء اور صبح کی نماز میں باجماعت حاضر ہونے کا ہے۔ (کیونکہ) وہ ان دونوں (میں حاضر ہونے) کی استطاعت نہیں رکھتے۔“