حدیث نمبر: 266
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالتَّكْبِيرِ. [ ص: 289 ] قَالَ: عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: ثُمَّ ذَكَرْتُهُ لِأَبِي مَعْبَدٍ بَعْدُ، فَقَالَ: لَمْ أُحَدِّثْكُهُ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَتْنِيهِ، قَالَ: وَكَانَ مِنْ أَصْدَقِ مَوَالِي ابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: كَأَنَّهُ نَسِيَهُ بَعْدَ مَا حَدَّثَهُ إِيَّاهُ.
حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، بیان فرماتے ہیں: ”میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کا ختم ہونا تکبیر (اللہ اکبر) کی آواز سے پہچان لیتا تھا۔“ عمرو بن دینارؒ فرماتے ہیں: ”میں نے بعد میں یہ حدیث ابومعبد سے ذکر کی تو انہوں نے کہا: میں نے تو تجھے یہ حدیث بیان نہیں کی“، عمرو کہتے ہیں: ”حالانکہ مجھے انہوں نے ہی بیان کی تھی“ اور کہا: ”یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلاموں میں سے سب سے زیادہ سچے ہیں۔“ امام شافعیؒ فرماتے ہیں: ”گویا کہ وہ انہیں یہ حدیث بیان کرنے کے بعد بھول گئے۔“
حدیث نمبر: 267
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ يَقُولُ: بِصَوْتِهِ الْأَعْلَى: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ، وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ" . أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ.
حافظ محمد فہد
عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز سے سلام پھیرنے کے بعد بلند آواز سے پڑھتے: ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے لیے ہی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے ساری تعریف ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے، گناہوں سے رکنا اور عبادت پر قدرت پانا صرف اللہ کی توفیق سے ممکن ہے۔ اور ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں، ہر نعمت کا مالک وہی ہے، اور سارا فضل اسی کی ملکیت ہے، اس کے لیے اچھی تعریف ہے، اللہ کے سوا کوئی (حقیقی) معبود نہیں، ہم (صرف) اسی کی عبادت کرتے ہیں اگرچہ کافر برا مانیں۔“