کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: رکوع، سجدہ اور ان میں اطمینان (تعدیلِ ارکان) کا بیان
حدیث نمبر: 220
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ خَلَادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلْيَتَوَضَّأْ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى، ثُمَّ لِيُكَبِّرْ، فَإِنْ كَانَ مَعَهُ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ قَرَأَ بِهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ تَعَالَى، وَلْيُكَبِّرْ ثُمَّ يَرْكَعْ حَتَّى يَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ لِيَقُمْ حَتَّى يَطْمَئِنَّ قَائِمًا ثُمَّ يَسْجُدْ حَتَّى يَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ لِيَرْفَعْ رَأْسَهُ فَلْيَجْلِسْ حَتَّى يَطْمَئِنَّ جَالِسًا، فَمَنْ نَقَصَ مِنْ هَذَا فَإِنَّمَا يَنْقُصُ مِنْ صَلَاتِهِ.
حافظ محمد فہد
رفاعہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرما رہے تھے: ”جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو تو اس طرح وضو کرے جس طرح اللہ نے اس کو حکم دیا ہے، پھر تکبیر کہے، اگر اسے قرآن یاد ہے تو اس سے پڑھے، اور اگر اسے کچھ بھی قرآن نہیں آتا تو اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرے، اور اللہ اکبر کہہ کر رکوع کرے یہاں تک کہ اطمینان سے رکوع کر لے، پھر کھڑا ہو یہاں تک کہ اطمینان سے کھڑا ہو جائے، پھر سجدہ کرے یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ ہو، پھر اپنا سر اٹھائے اور بیٹھے یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جائے، جس نے اس میں کمی کی بے شک وہ نماز میں کمی کر رہا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الصلاة / حدیث: 220
تخریج حدیث اسنادة ضعيف لشدة ضعف شيخ الشافعي، لكنه صح من غير هذا الطريق، اخرجه ابو داود، الصلاة، باب صلاة من لا يقيم صلبه في الركوع والسجود: 858 و ابن ماجة، الطهارة، باب ماجاء في الوضوء على ما امر الله تعالى: 460 - والنسائي التطبيق، باب الرخصة في ترك الذكر في السجود: 1137 - وصححه ابن خزيمة: 545 ، 597، 638 ـ والحاكم 1/ 241 - 242.
حدیث نمبر: 221
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَادٍ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ قَرِيبًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَعِدْ صَلَاتَكَ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" ، فَقَامَ فَصَلَّى بِنَحْوٍ مِمَّا صَلَّى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَعِدْ صَلَاتَكَ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" ، فَقَالَ: [ ص: 268 ] عَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أُصَلِّي؟ قَالَ: "إِذَا تَوَجَّهْتَ إِلَى الْقِبْلَةِ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَقْرَأَ، فَإِذَا رَكَعْتَ فَاجْعَلْ رَاحَتَيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ، وَمَكِّنْ رُكُوعَكَ وَامْدُدْ ظَهْرَكَ، فَإِذَا رَفَعْتَ فَأَقِمْ صُلْبَكَ وَارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَرْجِعَ الْعِظَامُ إِلَى مَفَاصِلِهَا، فَإِذَا سَجَدْتَ فَمَكِّنِ السُّجُودَ فَإِذَا رَفَعْتَ فَاجْلِسْ عَلَى فَخِذِكَ الْيُسْرَى، ثُمَّ اصْنَعْ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ وَسَجْدَةٍ حَتَّى تَطْمَئِنَّ" .
حافظ محمد فہد
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ ﷺ کے قریب نماز پڑھنے لگا۔ (جب اس نے نماز پوری کی) تو وہ نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو سلام کیا، نبی ﷺ نے فرمایا: ”اپنی نماز لوٹاؤ، کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔“ وہ آدمی کھڑا ہوا اور اس طرح نماز پڑھی جیسے پہلے پڑھی تھی، تو نبی ﷺ نے (پھر) فرمایا: ”اپنی نماز لوٹاؤ، کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے سکھائیں میں کیسے نماز پڑھوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو قبلہ رخ کھڑا ہو تو اللہ اکبر کہہ، پھر سورہ فاتحہ اور قرآن سے اتنا پڑھ جتنا اللہ نے تیرا مقدر کر دیا ہے، اور جب رکوع کرے تو اپنی ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر رکھ، اور اپنے رکوع کو اطمینان سے کر اور اپنی کمر پھیلا دے، اور جب تو اٹھے تو اپنی پیٹھ سیدھی کر اور سر کو اٹھا یہاں تک کہ ہڈیاں جوڑوں پر لوٹ آئیں۔ اور جب تو سجدہ کرے تو اطمینان سے سجدہ کر اور جب اٹھے تو اپنی بائیں ران پر بیٹھ جا، پھر اسی طرح ہر رکوع اور سجدہ اطمینان کے ساتھ کر۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الصلاة / حدیث: 221
تخریج حدیث اسنادة ضعيف لشدة ضعف شيخ الشافعي، لكنه صح من غير هذا الطريق، اخرجه ابو داود، الصلاة، باب صلاة من لا يقيم صلبه في الركوع والسجود: 858 و ابن ماجة، الطهارة، باب ماجاء في الوضوء على ما امر الله تعالى: 460 - والنسائي التطبيق، باب الرخصة في ترك الذكر في السجود: 1137 - وصححه ابن خزيمة: 545 ، 597، 638 ـ والحاكم 1/ 241 - 242.
حدیث نمبر: 222
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِرَجُلٍ: "إِذَا رَكَعْتَ فَاجْعَلْ رَاحَتَيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ، وَمَكِّنْ رُكُوعَكَ فَإِذَا رَفَعْتَ فَأَقِمْ صُلْبَكَ وَارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَرْجِعَ الْعِظَامُ إِلَى مَفَاصِلِهَا" .
حافظ محمد فہد
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک آدمی سے کہا: ”جب تو رکوع کرے تو اپنی ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر رکھ اور رکوع میں ٹھہر اور جب تو اٹھے تو اپنی پیٹھ کو سیدھا کر اور اپنا سر اٹھا یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنے جوڑ پر آجائے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الصلاة / حدیث: 222
تخریج حدیث اسنادة ضعيف لشدة ضعف شيخ الشافعي، لكنه صح من غير هذا الطريق، اخرجه ابو داود، الصلاة، باب صلاة من لا يقيم صلبه في الركوع والسجود: 858 و ابن ماجة، الطهارة، باب ماجاء في الوضوء على ما امر الله تعالى: 460 - والنسائي التطبيق، باب الرخصة في ترك الذكر في السجود: 1137 - وصححه ابن خزيمة: 545 ، 597، 638 ـ والحاكم 1/ 241 - 242.
حدیث نمبر: 223
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُرَّةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَا تَقُولُونَ فِي الشَّارِبِ وَالزَّانِي وَالسَّارِقِ؟" وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُنَزِّلَ اللَّهُ تَعَالَى الْحُدُودَ، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "هُنَّ فَوَاحِشُ، وَفِيهِنَّ عُقُوبَةٌ، وَأَسْوَأُ السَّرِقَةِ الَّذِي يَسْرِقُ صَلَاتَهُ" ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ. أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ، وَالرَّابِعَ مِنْ كِتَابِ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
حافظ محمد فہد
نعمان بن مرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم شرابی، زانی اور چور کے متعلق کیا کہتے ہو؟“ اور یہ بات ان جرائم کی حدود کے نزول سے پہلے کی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ برائیاں ہیں اور ان میں سزا ہے اور سب سے برا چور نماز کا چور ہے۔“ پھر حدیث آگے بیان کی۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الصلاة / حدیث: 223
تخریج حدیث اسنادة ضعيف لارساله: اخرجه البيهقی: 209/8 و ابن عبدالبر في التمهيد: 23/ 409