حدیث نمبر: 201
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ وَغَيْرُهُمَا، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَعْضُهُمْ: كَانَ إِذَا ابْتَدَأَ، وَقَالَ غَيْرُهُ مِنْهُمْ: كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ: وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي للَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ. قَالَ أَكْثَرُهُمْ: وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ وَشَكَكْتُ أَنْ يَقُولَ: قَالَ أَحَدُهُمْ: وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِينِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، لَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ.
حافظ محمد فہد
”علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرتے تو پڑھتے: میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کے لیے مطیع کیا، جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ بے شک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے۔ اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔ اے اللہ! تو ہی بادشاہ ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے اپنی تعریف کے ساتھ، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور میں اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں، میرے سب گناہوں کو بخش دے کیونکہ تیرے علاوہ کوئی بھی گناہوں کو معاف کرنے والا نہیں ہے۔ اچھے اخلاق کی طرف میری راہنمائی کر، تیرے علاوہ کوئی اچھے اخلاق کی طرف راہنمائی کرنے والا نہیں، اور برے اخلاق مجھ سے دور کر دے، تیرے علاوہ اسے کوئی دور کرنے والا نہیں، اے اللہ میں حاضر ہوں، اور تمام بھلائیاں تیرے ہاتھ میں ہیں اور برائی کی نسبت تیری طرف نہیں ہے۔ اور ہدایت والا وہی ہے جسے تو نے ہدایت دی، میں تیرے ساتھ ہوں اور تیری طرف (رجوع کرتا ہوں)۔ تیرے علاوہ کوئی پناہ گاہ نہیں، تو بابرکت ہے اور تو ہی بلند ہے۔ میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 202
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَحَدُهُمَا: كَانَ إِذَا ابْتَدَأَ الصَّلَاةَ، وَقَالَ الْآخَرُ: كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، قَالَ: وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي للَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ. قَالَ أَحَدُهُمَا: وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، وَقَالَ الْآخَرُ: وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: ثُمَّ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ بِالتَّعَوُّذِ ثُمَّ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَإِذَا أَتَى عَلَيْهَا قَالَ: آمِينَ، وَيَقُولُ مَنْ خَلْفَهُ، إِنْ كَانَ إِمَامًا يَرْفَعُ صَوْتَهُ حَتَّى يَسْمَعَ مَنْ خَلْفَهُ إِذَا كَانَ مِمَّا يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ الْأَمَالِي.
حافظ محمد فہد
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرتے، تو پڑھتے: ”میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف پھیر دیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں، بے شک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے۔ مسلم بن خالد اور عبدالمجید بن عبدالعزیز میں سے ایک نے کہا: اور میں پہلا مسلمان ہوں، جبکہ دوسرے نے کہا: اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر تعوذ (اعوذ باللہ) پڑھ کر قرآن پڑھتے، پھر بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے، جب (سورہ فاتحہ) ختم کرتے تو ”آمین“ کہتے اور آپ کے مقتدی بھی آمین کہتے! اگر امام ہوتے تو جہری نمازوں میں بلند آواز سے قرآت کرتے حتیٰ کہ آپ کے مقتدی بھی آپ کی آواز سنتے۔“