حدیث نمبر: 177
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّاسُ بِقُبَاءٍ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ، إِذْ أَتَاهُمْ آتٍ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ قُرْآنٌ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ، فَاسْتَقْبَلُوهَا وَكَانَتْ وُجُوهُ النَّاسِ إِلَى الشَّامِ فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ.
حافظ محمد فہد
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان فرماتے ہیں: ”قبا میں لوگ صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے آکر کہا کہ رات کو رسول اللہ ﷺ پر قرآن اتارا گیا ہے جس میں آپ ﷺ کو کعبہ رخ ہو کر نماز ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے تو لوگوں نے اس کی طرف منہ کر لیا۔ ان (اہل قبا) کے چہرے شام کی جانب تھے وہ (نماز میں) کعبہ کی جانب مڑ گئے۔“
حدیث نمبر: 178
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّاسُ بِقُبَاءٍ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ إِذْ جَاءَهُمْ آتٍ، فَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ قُرْآنٌ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ، فَاسْتَقْبَلُوهَا. وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّامِ، فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ.
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان فرماتے ہیں: ”لوگ قبا میں فجر کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے آکر بتایا کہ نبی ﷺ پر رات قرآن نازل کیا گیا جس میں انہیں کعبہ کی طرف ( نماز میں ) منہ کرنے کا حکم ہو گیا ہے۔ چنانچہ ان لوگوں نے بھی کعبہ کی طرف منہ کر لیے جبکہ اس وقت ان کے چہرے شام کی جانب تھے وہ سب کعبہ کی جانب گھوم گئے۔“
حدیث نمبر: 179
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، ثُمَّ حُوِّلَتِ الْقِبْلَةُ قَبْلَ بَدْرٍ بِشَهْرَيْنِ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ وَهُوَ أَوَّلُ حَدِيثٍ فِيهِ، وَالثَّانِيَ وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ الرِّسَالَةِ.
حافظ محمد فہد
سعید بن مسیب فرماتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے سولہ ماہ تک بیت المقدس کی جانب منہ کر کے نمازیں پڑھیں، پھر غزوہ بدر سے دو ماہ قبل قبلہ تبدیل کر دیا گیا۔“