کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: اذان میں آواز بلند کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 167
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ لَهُ: إِنِّي أَرَاكَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ، وَإِذَا كُنْتَ فِي غَنَمِكَ أَوْ بَادِيَتِكَ فَأَذَّنْتَ بِالصَّلَاةِ، فَارْفَعْ صَوْتَكَ، فَإِنَّهُ لَا يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِكَ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا شَيْءٌ إِلَّا شَهِدَ لَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ.
حافظ محمد فہد
عبداللہ بن ابی صعصعہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں دیکھتا ہوں کہ تو بکریوں اور جنگل کو پسند کرتا ہے، جب تم اپنی بکریوں یا جنگل میں ہو، اور نماز کے لیے اذان کہے تو اپنی آواز بلند کرو، کیونکہ جو بھی جن انسان یا کوئی چیز تیری آواز سنے گی وہ تیرے لیے قیامت کے دن گواہی دے گی۔“ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الصلاة / حدیث: 167
تخریج حدیث اخرجه البخاري: الاذان، باب رفع الصورت بالنداء: (609).