کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے سے متعلق بیان
حدیث نمبر: 159
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: قَدِمَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ الْمَدِينَةَ، فَبَيْنَا هُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ إِذْ قَالَ: يَا كَثِيرُ بْنَ الصَّلْتِ، اذْهَبْ إِلَى عَائِشَةَ فَسَلْهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَصْرِ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: فَذَهَبْتُ مَعَهُ إِلَى عَائِشَةَ، وَبَعَثَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ مَعَنَا، فَأَتَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَتْ لَهُ: اذْهَبْ فَسَلْ أُمَّ سَلَمَةَ، فَذَهَبْتُ مَعَهُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَهَا قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَصَلَّى عِنْدِي رَكْعَتَيْنِ لَمْ أَكُنْ أَرَاهُ يُصَلِّيهِمَا، فَقَالَ: "إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، وَإِنَّهُ قَدِمَ عَلَيَّ وَفْدُ بَنِي تَمِيمٍ أَوْ صَدَقَةٌ فَشَغَلُونِي عَنْهُمَا فَهُمَا هَاتَانِ الرَّكْعَتَانِ" .
حافظ محمد فہد
ابوسلمہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ مدینہ تشریف لائے، وہ منبر پر تشریف فرما تھے کہ کثیر بن صلت سے فرمایا: ”جاؤ عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے پاس اور ان سے رسول اللہ ﷺ کی عصر کے بعد والی نماز سے متعلق دریافت کر کے آؤ!“ ابوسلمہ کہتے ہیں: میں بھی ان کے ہمراہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، جبکہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی ہمارے ساتھ عبداللہ بن حارث بن نوفل کو بھیجا، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان سے اس کے متعلق دریافت کیا، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کثیر بن صلت سے کہا: ”ام سلمہ (رضی اللہ عنہا) کے پاس جاؤ اور ان سے دریافت کرو۔“ (ابوسلمہ) کہتے ہیں: میں بھی ان کے ساتھ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان سے اس کے متعلق سوال کیا، تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”ایک دن عصر کے بعد رسول اللہ ﷺ میرے ہاں تشریف لائے تو دو رکعتیں پڑھیں جنھیں میں نے آپ ﷺ کو پہلے (کبھی) پڑھتے نہیں دیکھا تھا، پھر فرمایا: ”میں ظہر کے بعد دو رکعتیں پڑھتا ہوں، ہوا یوں کہ میرے پاس بنو تمیم کا وفد آیا یا صدقہ کا مال آیا (راوی کا شک ہے) میں وہ رکعتیں نہ پڑھ سکا، تو یہ وہ (ظہر کے بعد والی) دو رکعتیں ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الصلاة / حدیث: 159
تخریج حدیث أخرجه النسائي، المواقيت، باب الرخصة في الصلاة بعد العصر: 580 - وأحمد: 6 / 29، 204، 310 - وعبد الرزاق: 3970 ، 3971 - والبيهقي في معرفة السنن والآثار: 1310 - وصححه ابن خزيمة: 1277.
حدیث نمبر: 160
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، قَالَ: قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ فَبَيْنَا هُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ إِذْ قَالَ: يَا كَثِيرُ بْنَ الصَّلْتِ، اذْهَبْ إِلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَسَلْهَا عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: فَذَهَبَ مَعَهُ، وَبَعَثَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ مَعَنَا. فَقَالَ: اذْهَبْ وَاسْمَعْ مَا تَقُولُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ. قَالَ: فَجَاءَهَا فَسَأَلَهَا، فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ: لَا عِلْمَ لِي وَلَكِنِ اذْهَبْ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَلْهَا. قَالَ: فَذَهَبْتُ مَعَهُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَصَلَّى عِنْدِي رَكْعَتَيْنِ لَمْ أَكُنْ أَرَاهُ يُصَلِّيهِمَا. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ صَلَّيْتَ صَلَاةً لَمْ أَكُنْ أَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا. فَقَالَ: "إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، وَإِنَّهُ قَدِمَ عَلَيَّ وَفْدُ بَنِي تَمِيمٍ أَوْ صَدَقَةٌ فَشَغَلُونِي عَنْهُمَا، فَهُمَا هَاتَانِ الرَّكْعَتَانِ" . أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الْعِيدَيْنِ وَالثَّانِيَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
حافظ محمد فہد
ابوسلمہ فرماتے ہیں معاویہ رضی اللہ عنہ مدینہ تشریف لائے، وہ منبر پر بیٹھے تھے جب انہوں نے کہا: ”اے کثیر بن صلت! مومنوں کی ماں عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے پاس جاؤ اور ان سے رسول اللہ ﷺ کی عصر کے بعد والی دو رکعتوں کے بارے میں دریافت کرو!“ ابوسلمہ کہتے ہیں میں بھی کثیر بن صلت کے ہمراہ گیا اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ہمارے ساتھ عبداللہ بن حارث کو بھیجا اور ان سے کہا: ”جاؤ اور سنو! مومنوں کی ماں کیا فرماتی ہیں۔“ انہوں نے آکر عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”مجھے اس سے متعلق علم نہیں ہے، آپ ام سلمہ (رضی اللہ عنہا) کے پاس جا کر ان سے یہ مسئلہ دریافت کرو۔“ ابوسلمہ فرماتے ہیں: میں بھی ان کے ساتھ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، تو انہوں نے فرمایا: ”ایک دن رسول اللہ ﷺ عصر کے بعد میرے گھر تشریف لائے تو آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں جو میں نے آپ ﷺ کو پہلے پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا تھا، میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ نے آج ایسی نماز پڑھی ہے جو اس سے قبل میں نے آپ کو پڑھتے نہیں دیکھا؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں ظہر کے بعد دو رکعتیں پڑھتا ہوں، میرے پاس بنو تمیم کا وفد آیا یا بنو تمیم کا صدقہ، تو انہوں نے مجھے ان رکعات سے مصروف کر دیا، تو یہ وہ (ظہر کے بعد والی) دو رکعتیں ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الصلاة / حدیث: 160
تخریج حدیث أخرجه النسائي، المواقيت، باب الرخصة في الصلاة بعد العصر: 580 - وأحمد: 6 / 29، 204، 310 - وعبد الرزاق: 3970 ، 3971 - والبيهقي في معرفة السنن والآثار: 1310 - وصححه ابن خزيمة: 1277.