حدیث نمبر: 154
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، وَعَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ.
حافظ محمد فہد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے، اور صبح کے بعد نماز سے منع فرمایا یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے۔
حدیث نمبر: 155
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا يَتَحَرَّى أَحَدُكُمْ فَيُصَلِّيَ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَلَا عِنْدَ غُرُوبِهَا" .
حافظ محمد فہد
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی سورج کے طلوع اور غروب کے وقت نماز کا قصد نہ کرے۔“
حدیث نمبر: 156
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ وَمَعَهَا قَرْنُ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا ارْتَفَعَتْ فَارَقَهَا، فَإِذَا اسْتَوَتْ قَارَنَهَا، فَإِذَا زَالَتْ فَارَقَهَا، فَإِذَا دَنَتْ لِلْغُرُوبِ قَارَنَهَا، فَإِذَا غَرَبَتْ فَارَقَهَا" ، وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي تِلْكَ السَّاعَاتِ.
حافظ محمد فہد
عبد اللہ الصنابجی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کے ساتھ شیطان کے سینگ بھی طلوع ہوتے ہیں، جب وہ بلند ہو جاتا ہے تو شیطان اس سے الگ ہو جاتا ہے۔ جب وہ (آسمان کے) درمیان میں پہنچتا ہے تو شیطان اس سے مل جاتا ہے۔ جب سورج ڈھلتا ہے تو وہ پھر جدا ہو جاتا ہے اور جب غروب کے قریب ہوتا ہے تو وہ پھر مل جاتا ہے اور غروب (آفتاب) کے بعد پھر جدا ہو جاتا ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے ان (تین) وقتوں میں نماز پڑھنے سے منع کیا ہے۔“
حدیث نمبر: 157
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ نِصْفَ النَّهَارِ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ إِلَّا يَوْمَ الْجُمُعَةِ.
حافظ محمد فہد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نصف النہار میں جمعہ کے دن کے علاوہ نماز پڑھنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے۔
حدیث نمبر: 158
أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ وَعَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ مُصْعَبٍ، عَنْ أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ؟ فَنَهَاهُ عَنْهُمَا، قَالَ طَاوُسٌ، فَقُلْتُ: مَا أَدَعُهُمَا! فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا [الْأَحْزَابِ: 36] . أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ، وَهِيَ أَوَّلُ مَا فِيهِ وَالرَّابِعَ مِنْ كِتَابِ إِيجَابِ الْجُمُعَةِ وَالْخَامِسَ مِنْ كِتَابِ الرِّسَالَةِ.
حافظ محمد فہد
عامر بن مصعب روایت کرتے ہیں کہ طاؤس نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے عصر کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھنے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے ان کو منع فرمایا، طاؤس نے کہا، میں تو پڑھوں گا تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے قرآن کی آیت تلاوت فرمائی کہ کسی مومن مرد و عورت کے لیے اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کے فیصلے کے بعد کوئی اختیار باقی نہیں رہتا۔ [الاحزاب: 36]