حدیث نمبر: 142
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ بِ الطُّورِ فِي الْمَغْرِبِ.
حافظ محمد فہد
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں میں نے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے مغرب کی نماز میں سورۃ طور پڑھی۔
حدیث نمبر: 143
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ ابْنَةِ الْحَارِثِ، سَمِعَتْهُ يَقْرَأُ: وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفًا. قَالَتْ: يَا بُنَيَّ، لَقَدْ ذَكَّرْتَنِي بِقِرَاءَتِكَ هَذِهِ السُّورَةِ، إِنَّهَا لَاخِرُ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا فِي الْمَغْرِبِ.
حافظ محمد فہد
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ام الفضل بنت الحارث (ان کی ماں) نے انہیں «والمرسلت عرفا» پڑھتے ہوئے سنا، تو فرمایا: ”اے میرے بیٹے! تم نے اس سورت کی تلاوت کر کے مجھے یاد دلا دیا کہ میں آخر عمر میں رسول اللہ ﷺ کو مغرب میں یہی سورت پڑھتے ہوئے سنتی تھی۔“
حدیث نمبر: 144
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ نُسَيٍّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ قَيْسَ بْنَ الْحَارِثِ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيُّ أَنَّهُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَصَلَّى وَرَاءَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْمَغْرِبَ، فَقَرَأَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، وَسُورَةٍ مِنْ قِصَارِ الْمُفَصَّلِ، ثُمَّ قَامَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّالِثَةِ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ، حَتَّى إِنَّ ثِيَابِي تَكَادُ أَنْ تَمَسَّ ثِيَابَهُ، فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَهَذِهِ الْآيَةِ: رَبَّنَا لا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ [آلِ عِمْرَانَ: 8] . أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ.
حافظ محمد فہد
ابو عبداللہ الصنابجی فرماتے ہیں کہ وہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں مدینہ آئے تو انہوں نے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے نمازِ مغرب پڑھی، تو انہوں نے پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور قصار مفصل سے ایک ایک سورہ پڑھی۔ پھر تیسری رکعت میں کھڑے ہوئے، تو (ابو عبداللہ کہتے ہیں) میں ان کے اتنا قریب ہوا کہ قریب تھا کہ میرے کپڑے ان کے کپڑوں کو لگتے، میں نے سنا آپ سورہ فاتحہ اور یہ آیت: ”اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر دے اور ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا فرما، بے شک تو ہی بہت بڑا عطا کرنے والا ہے۔“ (آل عمران: 8) پڑھ رہے تھے۔