حدیث نمبر: 120
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفْنَ النِّسَاءُ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ.
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز پڑھتے اور عورتیں اپنی چادروں میں لیٹی ہوئی واپس ہوتیں تو وہ اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتی تھیں۔
حدیث نمبر: 121
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كُنَّ نِسَاءٌ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ يُصَلِّينَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُنَّ مُتَلَفِّعَاتٌ بِمُرُوطِهِنَّ، ثُمَّ يَرْجِعْنَ إِلَى أَهْلِهِنَّ مَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْغَلَسِ.
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان فرماتی ہیں مومنہ عورتیں نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتیں اور وہ چادروں میں لپٹی ہوتیں، پھر اپنے گھروں کو لوٹتیں تو اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتی تھیں۔
حدیث نمبر: 122
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الصُّبْحَ، فَيَنْصَرِفُ النِّسَاءُ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ.
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز پڑھتے، تو عورتیں چادروں میں لپٹی ہوئی واپس آتیں، اور اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتی تھیں۔
حدیث نمبر: 123
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِثْلَهُ.
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک دوسری سند سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حدیث نمبر: 124
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: أَتَيْتُ عَلِيًّا وَهُوَ يُعَسْكِرُ بِدَيْرِ أَبِي مُوسَى، فَوَجَدْتُهُ يَطْعَمُ، فَقَالَ: ادْنُ فَكُلْ. قُلْتُ: إِنِّي أُرِيدُ الصَّوْمَ. قَالَ: وَأَنَا أُرِيدُهُ، فَدَنَوْتُ فَأَكَلْتُ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: يَابْنَ التَّيَّاحِ أَقِمِ الصَّلَاةَ.
حافظ محمد فہد
حبان بن حارث کہتے ہیں میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا جبکہ وہ ابو موسیٰ میں ان کے گھر لشکر کے ساتھ تھے۔ میں نے دیکھا وہ کھانا کھا رہے تھے۔ انہوں نے کہا: ”آؤ کھانا کھاؤ۔“ میں نے کہا، روزے کا ارادہ ہے تو انہوں نے کہا میرا بھی یہی ارادہ تھا، پھر میں نے بھی کھانا کھایا، جب کھانے سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے تیاح کے بیٹے ! آؤ نماز پڑھیں۔“
حدیث نمبر: 125
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ يَسَارِ بْنِ سَلَامَةَ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ: أَنَّهُ سَمِعَهُ يَصِفُ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: كَانَ يُصَلِّي الصُّبْحَ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ وَمَا يَعْرِفُ الرَّجُلُ مِنَّا جَلِيسَهُ، وَكَانَ يَقْرَأُ بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ وَالثَّانِيَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ، وَإِلَى آخِرِ السَّادِسِ مِنْ كِتَابِ اخْتِلَافِ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ مِمَّا لَمْ يَسْمَعِ الرَّبِيعُ مِنَ الشَّافِعِيِّ.
حافظ محمد فہد
ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ رسول اللہ ﷺ کی نماز کا طریقہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ صبح کی نماز سے فارغ ہو کر واپس مڑتے تو ہم میں سے کوئی اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے کو (اندھیرے کی وجہ سے) نہیں پہچان سکتا تھا، اور آپ ﷺ ساٹھ سے سو آیات تک کی تلاوت فرماتے تھے۔