کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: مستحاضہ (خونِ بیماری والی عورت) اور اس کے ایامِ حیض کا بیان
حدیث نمبر: 108
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ عَنْهَا: أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهْرَاقُ الدَّمَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَفْتَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "لِتَنْظُرْ عَدَدَ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامِ، الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُهُنَّ مِنَ الشَّهْرِ قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهَا الَّذِي أَصَابَهَا، فَلْتَتْرُكِ الصَّلَاةَ قَدْرَ ذَلِكَ مِنَ الشَّهْرِ، فَإِذَا خَلَّفَتْ ذَلِكَ فَلْتَغْتَسِلْ، ثُمَّ لِتَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ ثُمَّ لِتُصَلِّي" .
حافظ محمد فہد
نبی ﷺ کی بیوی ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک عورت کو بہت زیادہ خون آتا تھا، اس کے لیے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس مرضِ استحاضہ سے پہلے جتنی راتیں اور دن اسے حیض آیا کرتا تھا ان کا انداز لگا کر اتنے دن مہینے میں نمازیں چھوڑ دے، جب وہ وقت گزر جائے تو غسل کرے، پھر کپڑا باندھ کر نماز پڑھ لے۔“
حدیث نمبر: 109
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَا أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ، وَلَيْسَ بِالْحَيْضَةِ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَاتْرُكِي الصَّلَاةَ، فَإِذَا ذَهَبَ قَدْرُهَا فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي" .
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ فاطمہ بنتِ ابی حبیش نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: ”میں پاک نہیں رہ سکتی، کیا میں نماز چھوڑ دوں؟“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تو ایک رگ ہے یہ حیض نہیں، جب حیض کے دن آئیں تو نماز پڑھنا چھوڑ دو، جب وہ دن ختم ہو جائیں تو اپنے جسم سے خون کو صاف کرو اور نماز پڑھو۔“
حدیث نمبر: 110
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ عِمْرَانَ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أُمِّهِ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَتْ: كُنْتُ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً شَدِيدَةً، فَجِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَفْتِيهِ فَوَجَدْتُهُ فِي بَيْتِ أُخْتِي زَيْنَبَ. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً، وَإِنَّهُ لَحَدِيثٌ مَا مِنْهُ بُدٌّ، وَإِنَّهُ لَاَسْتَحْيِي مِنْهُ. قَالَ: "فَمَا هُوَ يَا هَنْتَاهْ" ؟ قَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً شَدِيدَةً، فَمَا تَرَى فِيهَا، فَقَدْ مَنَعَتْنِي الصَّلَاةَ وَالصَّوْمَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنِّي أَنْعَتُ لَكِ الْكُرْسُفَ فَإِنَّهُ يُذْهِبُ الدَّمَ" ، قَالَتْ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فَتَلَجَّمِي" . قَالَتْ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: "فَاتَّخِذِي ثَوْبًا" . قَالَتْ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ، إِنَّمَا أَثُجُّ ثَجًّا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "سَآمُرُكِ بِأَمْرَيْنِ أَيَّهُمَا فَعَلْتِ أَجْزَأَكِ مِنَ الْآخَرِ، فَإِنْ قَوِيتِ عَلَيْهِمَا، فَأَنْتِ أَعْلَمُ" . قَالَ لَهَا: "إِنَّمَا هِيَ رَكْضَةٌ مِنْ رَكَضَاتِ الشَّيْطَانِ، فَتَحَيَّضِي سِتَّةَ أَيَّامٍ، أَوْ سَبْعَةً فِي عِلْمِ اللَّهِ تَعَالَى، ثُمَّ اغْتَسِلِي حَتَّى إِذَا رَأَيْتِ أَنَّكِ قَدْ طَهُرْتِ وَاسْتَنْقَيْتِ فَصَلِّي أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَأَيَّامَهَا، أَوْ ثَلَاثًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَأَيَّامَهَا، وَصُومِي، فَإِنَّهُ مُجْزِئُكِ، وَكَذَلِكَ افْعَلِي فِي كُلِّ شَهْرٍ كَمَا تَحِيضُ النِّسَاءُ، وَيَطْهُرْنَ مِيقَاتَ حَيْضِهِنَّ وَطُهْرِهِنَّ" .
حافظ محمد فہد
حمنہ بنتِ جحش بیان فرماتی ہیں کہ مجھے استحاضہ کا خون بہت زیادہ آتا تھا، میں نبی ﷺ کی خدمت میں فتویٰ پوچھنے آئی تو آپ ﷺ کو اپنی بہن زینب کے گھر موجود پایا۔ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے آپ سے ایک کام ہے، یہ ایک ایسی بات ہے جو پوچھنی بھی ضرور ہے اور مجھے شرم بھی آتی ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آخر وہ کون سا کام ہے؟“ حمنہ نے کہا: ”مجھے استحاضہ کی سخت شکایت ہے، آپ اس کے متعلق کیا کہتے ہیں؟ اس تکلیف کی وجہ سے میں نماز اور روزہ ادا نہیں کر سکتی۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تیرے لیے روئی تجویز کرتا ہوں کیونکہ وہ خون کو جذب کرتی ہے۔“ انہوں نے کہا: ”وہ اس سے زیادہ ہے۔“ نبی ﷺ نے فرمایا: ”لنگوٹ باندھ لو۔“ انہوں نے کہا: ”وہ اس سے بھی زیادہ ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کپڑا استعمال کر لو۔“ انہوں نے کہا: ”وہ اس سے بھی زیادہ ہے (یعنی اس سے نہیں رک سکتا وہ تو بہتا ہے)۔“ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں آپ کو دو باتوں کا حکم دیتا ہوں جو بھی کر لو درست ہے۔ اور اگر تم دونوں کرنے پر قدرت رکھتی ہو تو تمہیں زیادہ علم ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ شیطان کی ٹھوکروں میں سے ایک ٹھوکر ہے۔ تم اللہ کے علم پر اعتماد کر کے چھ یا سات دن اپنے آپ کو حائضہ سمجھو، پھر غسل کرو یہاں تک کہ جب تم سمجھ لو کہ میں (حیض سے) پاک ہو گئی ہوں تو چوبیس رات دن یا تئیس نماز پڑھو اور روزے رکھو! اور اسی طرح ہر ماہ کرتی رہو جیسا کہ عورتیں اپنے حیض اور طہر کے مقررہ اوقات میں کرتی ہیں۔“
حدیث نمبر: 111
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهْرَاقُ الدَّمَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَفْتَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "لِتَنْظُرْ عَدَدَ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُهُنَّ مِنَ الشَّهْرِ قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهَا الَّذِي أَصَابَهَا، فَلْتَتْرُكِ الصَّلَاةَ قَدْرَ ذَلِكَ مِنَ الشَّهْرِ، فَإِذَا خَلَّفَتْ ذَلِكَ فَلْتَغْتَسِلْ وَتَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ، ثُمَّ لِتُصَلِّي" .
حافظ محمد فہد
نبی ﷺ کی بیوی ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ کے زمانے میں ایک عورت کو بہت زیادہ خون آتا تھا، اس کے لیے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس مرضِ استحاضہ سے پہلے مہینے میں جتنی راتیں اور دن اسے حیض آتا تھا اس کا خیال کر کے مہینے میں اتنے دن نماز چھوڑ دے، جب وہ وقت گزر جائے تو غسل کر کے کپڑا باندھ لے اور نماز پڑھے۔“
حدیث نمبر: 112
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ، فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ" . وَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ وَتُصَلِّيَ، فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَتَجْلِسُ فِي الْمِرْكَنِ فَيَعْلُو الدَّمُ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ وَإِلَى آخِرِ الْخَامِسِ مِنْ كِتَابِ ذِكْرِ اللَّهِ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ.
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سات سال استحاضہ کی مریض رہیں، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”یہ ایک رگ ہے، حیض نہیں۔“ اور اسے حکم دیا کہ وہ غسل کر کے نماز پڑھے، چنانچہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتیں، وہ غسل کے لیے ٹب میں بیٹھتی تھیں تو خون کی سرخی پانی پر آجاتی۔