حدیث نمبر: 83
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْمُهَاجِرُ أَبُو مَخْلَدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ رَخَّصَ لِلْمُسَافِرِ أَنْ يَمْسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً.
حافظ محمد فہد
ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسافر کو تین دن اور تین راتوں تک موزوں پر مسح کرنے کی رخصت دی، اور مقیم کو ایک دن اور ایک رات۔
حدیث نمبر: 84
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ، وَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ قُلْتُ: ابْتِغَاءَ الْعِلْمِ، قَالَ: إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًى بِمَا يَطْلُبُ، قُلْتُ: إِنَّهُ حَاكَ فِي صَدْرِي الْمَسْحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ بَعْدَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ، وَكُنْتَ امْرَءًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُكَ أَسْأَلُكَ: هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ. كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا سَفَرًا أَوْ مُسَافِرِينَ أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، لَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْوُضُوءِ.
حافظ محمد فہد
زر بن حبیش رحمہ اللہ سے روایت ہے کہتے ہیں میں صفوان بن عسال المرادی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے کہا: ”کس کام سے آئے ہو؟“ کہتے ہیں میں نے کہا: ”حصولِ علم کے لیے“ تو انہوں نے فرمایا: ”فرشتے طالبِ علم کی رضا کے لیے اپنے پر بچھاتے ہیں۔“ میں نے کہا: ”بول و براز کے بعد موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں میرے دل میں کچھ شک گزرتا ہے جبکہ آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھیوں میں سے ہیں۔ میں آپ سے یہ پوچھنے آیا ہوں کہ کیا آپ نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کچھ سنا ہے؟“ صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں! رسول اللہ ﷺ جب ہم سفر میں ہوتے یا مسافر ہوتے تو ہمیں حکم دیتے کہ ہم جنابت کے بغیر اپنے موزوں کو تین دن اور تین راتوں تک نہ اتاریں لیکن بول و براز اور نیند کے بعد (موزے اتارنے کی ضرورت نہیں)۔“