حدیث نمبر: 81
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ بِالسُّوقِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ دُعِيَ لِجِنَازَةٍ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا، فَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا.
حافظ محمد فہد
نافع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بازار میں وضو کیا، اپنے چہرے اور ہاتھوں کو دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر انہیں جنازہ کے لیے بلایا گیا، وہ مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے کے لیے داخل ہوئے تو موزوں پر مسح کیا، پھر نماز جنازہ پڑھی۔
حدیث نمبر: 82
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ بَالَ فِي السُّوقِ فَتَوَضَّأَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَدُعِيَ لِجِنَازَةٍ، فَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ صَلَّى. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الْوُضُوءِ وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.
حافظ محمد فہد
نافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے بازار میں پیشاب کیا اور اپنے چہرے اور ہاتھوں کو دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر مسجد میں داخل ہوئے، وہ جنازہ کے لیے بلائے گئے تو آپ نے موزوں پر مسح کیا اور نماز جنازہ پڑھی۔ موزوں کے ساتھ ساتھ جرابوں پر بھی مسح جائز ہے۔