حدیث نمبر: 72
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِلَالٌ فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ خَرَجَا، قَالَ أُسَامَةُ: فَسَأَلْتُ بِلَالًا مَاذَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ بِلَالٌ: ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ.
حافظ محمد فہد
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ اور بلال رضی اللہ عنہ داخل ہوئے اور کسی ضرورت (قضائے حاجت) کے لیے گئے، پھر دونوں باہر آئے تو اسامہ کہتے ہیں میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اللہ کے رسول ﷺ نے کیا کیا؟ تو بلال رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، پھر وضو کیا تو اپنے چہرے اور ہاتھوں کو دھویا، اپنے سر کا مسح کیا، اور موزوں پر (بھی) مسح کیا۔
حدیث نمبر: 73
أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَاةَ تَبُوكَ، قَالَ الْمُغِيرَةُ: فَتَبَرَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ الْغَائِطِ، فَحَمَلْتُ مَعَهُ إِدَاوَةً قَبْلَ الْفَجْرِ، فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذْتُ أُهْرِيقُ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الْإِدَاوَةِ، وَهُوَ يَغْسِلُ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسِرُ جُبَّتَهُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ، فَضَاقَ كُمَّا جُبَّتِهِ، فَأَدْخَلَ يَدَيْهِ فِي الْجُبَّةِ حَتَّى أَخْرَجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ. قَالَ الْمُغِيرَةُ: فَأَقْبَلْتُ مَعَهُ حَتَّى نَجِدَ النَّاسَ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ قَدْ صَلَّى لَهُمْ، فَأَدْرَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ مَعَهُ، وَصَلَّى مَعَ النَّاسِ الرَّكْعَةَ الْأَخِيرَةَ، فَلَمَّا سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتَمَّ صَلَاتَهُ، فَأَفْزَعَ ذَلِكَ الْمُسْلِمِينَ وَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ: "أَحْسَنْتُمْ" أَوْ قَالَ: "أَصَبْتُمْ" ، يَغْبِطُهُمْ أَنْ صَلَّوُا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا.
حافظ محمد فہد
عروہ بن مغیرہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک میں شریک ہوئے تھے۔ مغیرہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ فجر سے پہلے بول و براز کے لیے تشریف لے گئے اور میں نے آپ کے ساتھ پانی کا برتن اٹھایا ہوا تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ واپس آئے تو میں آپ کے ہاتھوں پر برتن سے پانی ڈالنے لگا، آپ ﷺ نے اپنے ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنا چہرہ دھویا، پھر اپنے بازوؤں سے جبہ ہٹانے لگے لیکن جبے کی آستینیں تنگ ہو گئیں تو آپ نے اپنے ہاتھ جبہ میں داخل کیے اور انہیں جبہ کے نیچے سے نکالا، اور اپنے بازوؤں کو کہنیوں سمیت دھویا، پھر وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا، پھر واپس آئے۔ مغیرہ کہتے ہیں: میں بھی آپ کے ساتھ واپس مڑا، ہم نے دیکھا کہ لوگ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے ہیں، نبی ﷺ نے ایک رکعت جماعت کے ساتھ پڑھی اور دوسری رکعت لوگوں کے ساتھ (علیحدہ) پڑھی۔ جب عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو گئے اور اپنی نماز مکمل کی۔ اس واقعے نے مسلمانوں کو پریشان کر دیا اور وہ کثرت سے سبحان اللہ کہنے لگے۔ جب نبی ﷺ نے نماز مکمل کی تو صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”تم نے اچھا کیا“ یا فرمایا ”تم نے درست کیا“۔ گویا آپ ﷺ ان کو نماز وقت پر پڑھنے کی ترغیب دلا رہے تھے۔
حدیث نمبر: 74
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَحَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ نَحْوَ حَدِيثِ عَبَّادٍ. قَالَ الْمُغِيرَةُ: فَأَرَدْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "دَعْهُ" .
حافظ محمد فہد
مغیرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں، میں نے عبدالرحمن (بن عوف) کو پیچھے ہٹانے کا ارادہ کیا تو مجھے نبی ﷺ نے فرمایا: ”اس کو رہنے دے۔“
حدیث نمبر: 75
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، وَزَكَرِيَّا، وَيُونُسَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنْ أَدْخَلْتَهَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ.
حافظ محمد فہد
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، بیان فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم موزوں پر مسح کر سکتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، جبکہ تو نے ان کو وضو کی حالت میں پہنا ہو۔“
حدیث نمبر: 76
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ وَهُوَ مِنْ وَلَدِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ فِي غَزَاةِ تَبُوكَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَصَلَّى.
حافظ محمد فہد
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک کے موقع پر قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، پھر (بعد میں) آپ نے وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا اور نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 77
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَدِمَ الْكُوفَةَ عَلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَهُوَ أَمِيرُهَا، فَرَآهُ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ. فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: سَلْ أَبَاكَ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: إِذَا أَدْخَلْتَ رِجْلَيْكَ فِي الْخُفَّيْنِ وَهُمَا طَاهِرَتَانِ فَامْسَحْ عَلَيْهِمَا. قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَإِنْ جَاءَ أَحَدُنَا مِنَ الْغَائِطِ؟ فَقَالَ: وَإِنْ جَاءَ أَحَدُكُمْ مِنَ الْغَائِطِ.
حافظ محمد فہد
نافع اور عبداللہ بن دینار بیان کرتے ہیں کہ جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کوفہ تشریف لے گئے، اس وقت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ وہاں کے گورنر تھے، انہوں نے دیکھا کہ سعد رضی اللہ عنہ موزوں پر مسح کرتے ہیں تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان پر اعتراض کیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اپنے باپ سے پوچھ لینا۔“ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب تو پاؤں میں موزے وضو کی حالت میں پہنے تو ان پر مسح کر۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا: ”اگر ہم بول و براز کے لیے جائیں تو؟“ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگرچہ بول و براز کے لیے جاؤ تو بھی (مسح کرو)۔“
حدیث نمبر: 78
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ بَالَ بِالسُّوقِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ صَلَّى.
حافظ محمد فہد
نافع روایت کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بازار میں پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا، پھر نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 79
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رُقَيْشٍ، قَالَ: رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَتَى قُبَاءً فَبَالَ، وَتَوَضَّأَ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَصَلَّى.
حافظ محمد فہد
سعید بن عبد الرحمن بن رقیش کہتے ہیں: میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ قبا (بستی) میں آئے، پیشاب کیا اور وضو کیا تو موزوں پر مسح کیا اور (بعد میں) نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 80
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: تَوَضَّأَ عَلِيٌّ فَمَسَحَ ظَهْرَ قَدَمَيْهِ، وَقَالَ: لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى ظَهْرِ قَدَمَيْهِ لَظَنَنْتُ أَنَّ بَاطِنَهُمَا أَحَقُّ. أَخْرَجَ الْأَرْبَعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْوُضُوءِ وَإِلَى آخِرِ الثَّامِنِ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَالتَّاسِعَ مِنْ كِتَابِ اخْتِلَافِ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ مِمَّا لَمْ يَسْمَعِ الرَّبِيعُ مِنَ الشَّافِعِيِّ.
حافظ محمد فہد
عبد خیر فرماتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے وضو کرتے ہوئے پاؤں کے اوپر والے حصے پر مسح کیا اور فرمایا: ”اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو پاؤں کے اوپر والے حصے پر مسح کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میرے خیال کے مطابق نچلا حصہ زیادہ بہتر ہے (کہ اس پر مسح کیا جائے)۔“