حدیث نمبر: 66
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْتَظِرُونَ الْعِشَاءَ فَيَنَامُونَ أَحْسَبُهُ قَالَ: قُعُودًا حَتَّى تَخْفِقَ رُءُوسُهُمْ، ثُمَّ يُصَلُّونَ وَلَا يَتَوَضَّئُونَ.
حافظ محمد فہد
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نمازِ عشاء کا انتظار کرتے، غلبہ نیند کی وجہ سے بیٹھے ہوئے ان کے سر جھک جاتے مگر وہ ازسرِ نو وضو کیے بغیر نماز پڑھ لیتے۔
حدیث نمبر: 67
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَنَامُ قَاعِدًا، ثُمَّ يُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ.
حافظ محمد فہد
نافع رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے سو جاتے، پھر نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 68
أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا وَجَبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ، وَمَنْ نَامَ جَالِسًا فَلَا وُضُوءَ عَلَيْهِ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْوُضُوءِ، وَالثَّالِثَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ.
حافظ محمد فہد
نافع رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جو لیٹ کر سویا اس پر وضو واجب ہو گیا اور جو بیٹھا سو گیا اس پر وضو نہیں ہے۔“