مسند الإمام الشافعي
كتاب الحج— حج کے مسائل کا بیان
بَابُ الدَّفْعِ مِنْ عَرَفَةَ باب: عرفات سے (مزدلفہ کی طرف) کوچ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 997
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَدْفَعُونَ مِنْ عَرَفَةَ قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ، وَمِنَ الْمُزْدَلِفَةِ بَعْدَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَيَقُولُ: أَشْرِقْ ثُبَيْرُ كَيْمَا نُغِيرُ فَأَخَّرَ اللَّهُ هَذِهِ وَقَدَّمَ هَذِهِ.حافظ محمد فہد
طاؤس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہا کہ جاہلیت والے عرفات سے سورج غروب ہونے سے پہلے لوٹتے اور مزدلفہ سے سورج طلوع ہونے کے بعد لوٹتے اور کہتے: ”اے ثبیر (پہاڑ کا نام) تو چمک جا تاکہ ہم واپس آئیں۔“ تو اللہ تعالیٰ نے اس کو (عرفہ کو) مؤخر کر دیا (یعنی سورج غروب ہونے تک) اور اس (مزدلفہ) کو پہلے (یعنی طلوعِ آفتاب سے پہلے) کر دیا۔