مسند الإمام الشافعي
كتاب الحج— حج کے مسائل کا بیان
بَابُ الدَّفْعِ مِنْ عَرَفَةَ باب: عرفات سے (مزدلفہ کی طرف) کوچ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 996
حَدَّثَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يَدْفَعُونَ مِنْ عَرَفَةَ قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ وَمِنَ الْمُزْدَلِفَةِ بَعْدَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَتَّى تَكُونَ الشَّمْسُ: كَأَنَّهَا عَمَائِمُ الرِّجَالِ فِي وُجُوهِهِمْ وَإِنَّا لَا نَدْفَعُ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَنَدْفَعُ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ هَدْيُنَا مُخَالِفٌ لِهَدْيِ أَهْلِ الْأَوْثَانِ وَالشِّرْكِ .حافظ محمد فہد
محمد بن قیس بن مخرمہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا تو ارشاد فرمایا: ”جاہلیت کے لوگ عرفات سے سورج غروب ہونے سے پہلے واپس آتے، اور مزدلفہ سے سورج طلوع ہونے کے بعد (چلتے) یہاں تک کہ سورج ایسے ہوتا گویا وہ لوگوں کے چہروں پر عمامے ہیں اور ہم عرفات سے اس وقت تک واپس نہیں جائیں گے جب تک کہ سورج غروب نہ ہو جائے، اور مزدلفہ سے ہم سورج طلوع ہونے سے پہلے لوٹیں گے۔ ہمارا طریقہ مشرکوں اور بتوں کے پجاریوں کے مخالف ہے۔“