مسند الإمام الشافعي
كتاب الحج— حج کے مسائل کا بیان
بَابُ مَنْ أَدْرَكَ لَيْلَةَ النَّحْرِ مِنَ الْحَاجِّ فَوَقَفَ بِجِبَالِ عَرَفَةَ قَبْلَ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ باب: اس حاجی کا بیان جس نے عید کی رات پائی اور فجر طلوع ہونے سے پہلے عرفات کے پہاڑوں پر وقوف کیا
حدیث نمبر: 994
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ: أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ خَرَجَ حَاجًّا حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْبَادِيَةِ مِنْ طَرِيقِ مَكَّةَ أَضَلَّ رَوَاحِلَهُ، وَأَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ النَّحْرِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ: اصْنَعْ كَمَا يَصْنَعُ الْمُعْتَمِرُ، ثُمَّ قَدْ حَلَلْتَ، فَإِذَا أَدْرَكْتَ الْحَجَّ قَابِلًا حُجَّ وَأَهْدِ مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ.حافظ محمد فہد
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ابو ایوب رضی اللہ عنہ حج کے لیے نکلے تو مکہ کے راستے میں مقام بادیہ پر ان کا اونٹ گم ہو گیا۔ وہ قربانی والے دن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے یہ بات بیان کی۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا، تم اس طرح کرو جس طرح عمرہ کرنے والے کرتے ہیں پھر احرام کھول دو۔ پھر جب آئندہ سال حج کو پاؤ تو حج کرو اور جو ہدی سے میسر ہو قربانی کرو۔