مسند الإمام الشافعي
كتاب الحج— حج کے مسائل کا بیان
بَابُ مَنْ أَدْرَكَ لَيْلَةَ النَّحْرِ مِنَ الْحَاجِّ فَوَقَفَ بِجِبَالِ عَرَفَةَ قَبْلَ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ باب: اس حاجی کا بیان جس نے عید کی رات پائی اور فجر طلوع ہونے سے پہلے عرفات کے پہاڑوں پر وقوف کیا
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ قَالَ: مَنْ أَدْرَكَ لَيْلَةَ النَّحْرِ مِنَ الْحَاجِّ فَوَقَفَ بِجِبَالِ عَرَفَةَ قَبْلَ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ، وَمَنْ لَمْ يُدْرِكْ عَرَفَةَ فَيَقِفُ بِهَا قَبْلَ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ فَقَدْ فَاتَهُ الْحَجُّ، فَلْيَأْتِ الْبَيْتَ فَلْيَطُفْ بِهِ سَبْعًا وَلْيَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا، ثُمَّ لِيَحْلِقْ أَوْ يُقَصِّرْ إِنْ شَاءَ، وَإِنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَنْحَرْهُ قَبْلَ أَنْ يَحْلِقَ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ طَوَافِهِ وَسَعْيِهِ فَلْيَحْلِقْ أَوْ يُقَصِّرْ، ثُمَّ لِيَرْجِعْ إِلَى أَهْلِهِ، فَإِنْ أَدْرَكَهُ الْحَجُّ قَابِلًا فَلْيَحْجُجْ إِنِ اسْتَطَاعَ وَلْيُهْدِ. فَإِنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا فَلْيَصُمْ عَنْهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ.نافع رحمہ اللہ، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا، جس حج کرنے والے نے قربانی کی رات عرفہ کے پہاڑوں میں ٹھہرے ہوئے طلوع فجر سے پہلے پالی تو اس نے حج پالیا، اور جس نے عرفہ کو نہ پایا، تو وہ طلوع فجر سے پہلے تک وہاں ٹھہرا رہا تو اس کا حج فوت ہوگیا۔ اسے چاہیے کہ وہ بیت اللہ آئے اس کے سات چکر کاٹے اور صفا مروہ کی سات چکروں میں سعی کرے پھر اگر چاہے تو بال منڈوادے اگر چاہے تو کتروا دے۔ اور اگر اس کے پاس قربانی ہے تو بال مونڈنے سے پہلے اسے نحر کرے۔ اور جب طواف اور سعی سے فارغ ہو جائے تو بال منڈوائے یا کتروائے۔ پھر اپنے گھر لوٹ آئے۔ اگر آئندہ سال حج پالے تو طاقت ہے تو حج کرے اور قربانی بھی، اگر قربانی نہیں پاتا تو اس کے بدلے میں تین روزے حج کے دنوں میں اور سات گھر آکر رکھے۔