مسند الإمام الشافعي
كتاب الحج— حج کے مسائل کا بیان
بَابُ تَقْبِيلِ الْحَجَرِ وَالِاسْتِلَامِ وَإِذَا وَجَدَ زِحَامًا انْصَرَفَ باب: حجرِ اسود کو بوسہ دینے، اسے چھونے اور رش کی صورت میں لوٹ آنے کا بیان
حدیث نمبر: 955
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ مَنْبُوذِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أُمِّهِ: أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَتْ عَلَيْهَا مَوْلَاةٌ لَهَا، فَقَالَتْ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ طُفْتُ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَاسْتَلَمْتُ الرُّكْنَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: لَا آجَرَكِ اللَّهُ لَا آجَرَكِ اللَّهَ، تُدَافِعِينَ الرِّجَالَ أَلَا كَبَّرْتِ وَمَرَرْتِ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الْحَجِّ مِنَ الْأَمَالِي، وَإِلَى آخِرِ الْخَامِسِ مِنْ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ.حافظ محمد فہد
منبوذ بن ابی سلیمان اپنی ماں سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کی زوجہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھیں کہ ان کے پاس ان کی آزاد کردہ لونڈی نے آکر ان سے کہا: ”اے ام المؤمنین! میں نے بیت اللہ کے سات چکر کاٹے اور دو یا تین دفعہ استلام کیا“، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے کہا: ”اللہ تجھے ثواب نہ دے، اللہ تجھے ثواب نہ دے، تو مردوں کو ہٹاتی دیتی تھی؟ کیا تو صرف تکبیر کہتی ہوئی نہ گزر گئی؟“