مسند الإمام الشافعي
كتاب الحج— حج کے مسائل کا بیان
بَابُ تَقْبِيلِ الْحَجَرِ وَالِاسْتِلَامِ وَإِذَا وَجَدَ زِحَامًا انْصَرَفَ باب: حجرِ اسود کو بوسہ دینے، اسے چھونے اور رش کی صورت میں لوٹ آنے کا بیان
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: هَلْ رَأَيْتَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَلَمُوا قَبَّلُوا أَيْدِيَهُمْ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَابْنَ عُمَرَ وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ وَأَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ إِذَا اسْتَلَمُوا قَبَّلُوا أَيْدِيَهُمْ. قُلْتُ: وَابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ: نَعَمْ. [ ص: 253 ] وَحَسِبْتُ كَثِيرًا. قُلْتُ: هَلْ تَدَعُ أَنْتَ إِذَا اسْتَلَمْتَ أَنْ تُقَبِّلَ يَدَكَ؟ قَالَ: فَلَمْ أَسْتَلِمْهُ إِذَنْ.ابن جریج نے بیان کیا کہ میں نے عطاء سے پوچھا کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کسی کو دیکھا کہ جب اس نے استلام کیا ہو تو اپنے ہاتھوں کو چوما بھی ہو؟ عطاء نے کہا: ہاں میں نے جابر بن عبد اللہ، ابن عمر، ابوسعید خدری، اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم کو دیکھا کہ جب انہوں نے استلام کیا تو اپنے ہاتھوں کو بھی چوما۔ ابن جریج کہتے ہیں میں نے کہا اور ابن عباس نے بھی؟ عطاء نے کہا: ہاں، اور میرے خیال سے بہت زیادہ کو دیکھا۔ ابن جریج کہتے ہیں میں نے کہا، کیا آپ جب استلام کریں تو اپنے ہاتھوں کو نہیں چومتے؟ انہوں نے کہا: (ہاں) تب میں ان کو نہیں چومتا۔