مسند الإمام الشافعي
كتاب الحج— حج کے مسائل کا بیان
بَابُ تَقْبِيلِ الْحَجَرِ وَالِاسْتِلَامِ وَإِذَا وَجَدَ زِحَامًا انْصَرَفَ باب: حجرِ اسود کو بوسہ دینے، اسے چھونے اور رش کی صورت میں لوٹ آنے کا بیان
حدیث نمبر: 952
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ جَاءَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ مُسَبِّدًا رَأْسَهُ فَقَبَّلَ الرُّكْنَ ثُمَّ سَجَدَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَبَّلَهُ ثُمَّ سَجَدَ عَلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.حافظ محمد فہد
ابو جعفر سے روایت ہے فرمایا میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ آٹھ ذی الحجہ کو (مکہ) آئے ان کا سر گرد آلود تھا، انہوں نے حجرِ اسود کو بوسہ دیا پھر اس پر سجدہ کیا، پھر بوسہ دیا اور اس پر سجدہ کیا، تین مرتبہ اس طرح کیا۔