مسند الإمام الشافعي
كتاب الحج— حج کے مسائل کا بیان
بَابُ تَقْبِيلِ الْحَجَرِ وَالِاسْتِلَامِ وَإِذَا وَجَدَ زِحَامًا انْصَرَفَ باب: حجرِ اسود کو بوسہ دینے، اسے چھونے اور رش کی صورت میں لوٹ آنے کا بیان
حدیث نمبر: 951
حَدَّثَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ أَتَى الرُّكْنَ الْأَسْوَدَ مُسَبِّدًا فَقَبَّلَهُ ثُمَّ سَجَدَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَبَّلَهُ فَسَجَدَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَبَّلَهُ وَسَجَدَ عَلَيْهِ.حافظ محمد فہد
محمد بن عباد بن جعفر نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا ابن عباس رضی اللہ عنہما حجرِ اسود کے پاس آئے تو ان کا سر گرد آلود تھا، اس کو بوسہ دیا پھر اس پر سجدہ کیا، پھر اس کو بوسہ دیا اور اس پر سجدہ کیا، پھر اس کو بوسہ دیا اور اس پر سجدہ کیا۔