مسند الإمام الشافعي
كتاب الحج— حج کے مسائل کا بیان
بَابٌ فِي الْإِحْصَارِ وَمَنْ حُبِسَ دُونَ الْبَيْتِ بِمَرَضٍ وَالتَّدَاوِي بِمَا لَا بُدَّ مِنْهُ باب: احصار (روک دیے جانے)، بیماری کی وجہ سے بیت اللہ نہ پہنچ پانے اور ضروری علاج کا بیان
حدیث نمبر: 942
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: لَا حَصْرَ إِلَّا حَصْرُ الْعَدُوِّ وَزَادَ أَحَدُهُمَا ذَهَبَ الْحَصْرُ الْآنَ.حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ”دشمن کے علاوہ اور کوئی رکاوٹ (احصار) نہیں ہے۔“ ابن طاؤس اور عمرو بن دینار میں سے ایک نے یہ لفظ زیادہ بیان کیے ہیں کہ: ”اب وہ (دشمن کی) رکاوٹ بھی ختم ہو چکی۔“