مسند الإمام الشافعي
كتاب الحج— حج کے مسائل کا بیان
بَابُ حَجِّ الصَّبِيِّ وَأَجْرِ مَنْ حَجَّ بِهِ باب: بچے کے حج اور اسے حج کروانے والے کے اجر کا بیان
حدیث نمبر: 937
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ فَلَمَّا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ لَقِيَ رَكْبًا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: "مَنِ الْقَوْمُ" ؟ فَقَالُوا: مُسْلِمُونَ فَمَنِ الْقَوْمُ؟ قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "رَسُولُ اللَّهِ" . فَرَفَعَتْ إِلَيْهِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا لَهَا مِنْ مَحَفَّةٍ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: "نَعَمْ وَلَكَ أَجْرٌ" .حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ واپس لوٹے اور آپ کو مقامِ روحاء میں کچھ لوگ سوار ملے، آپ ﷺ نے ان کو سلام کیا اور پوچھا: ”تم کون لوگ ہو؟“ انہوں نے کہا: ”ہم مسلمان ہیں اور آپ لوگ کون ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کا رسول ہوں۔“ ایک عورت نے پالکی سے اپنے بچے کو ہاتھوں پر بلند کیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا اس کا حج (صحیح) ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اور اس کا ثواب تجھے ہے۔“