مسند الإمام الشافعي
كتاب الحج— حج کے مسائل کا بیان
بَابُ الْمُؤْجِرِ نَفْسَهُ باب: اجرت پر حج کرنے والے کا بیان
حدیث نمبر: 935
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ وَسَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ فَقَالَ: أُوَاجِرُ نَفْسِي مِنْ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ، فَأَنْسُكُ مَعَهُمُ الْمَنَاسِكَ، أَلِيَ أَجْرٌ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: نَعَمْ أُولَئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ [الْبَقَرَةِ: 202] .حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ایک آدمی نے ان سے پوچھا کہ: ”میں نے اس قوم کی ملازمت کر لی ہے (اس شرط پر کہ) میں ان کے ساتھ حج کی ادائیگی کروں گا، تو کیا میرا حج ہوگا؟“ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں، یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے ان کی کمائی کا حصہ ہے اور اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والے ہیں۔“ (البقرہ : 202)