حدیث نمبر: 931
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "وَكُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ" ، ثُمَّ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمٍ فَقَالَتْ: إِنَّ أَبِي شَيْخٌ قَدْ أَفْنَدَ وَأَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ، وَلَا يَسْتَطِيعُ أَدَاءَهَا، فَهَلْ يُجْزِئُ عَنْهُ أَنْ أُؤَدِّيَهَا عَنْهُ؟ قَالَ: نَعَمْ.
حافظ محمد فہد

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سارے کا سارا منیٰ قربانی کی جگہ ہے۔“ پھر آپ ﷺ کے پاس خثعم قبیلہ کی ایک عورت آئی اور اس نے کہا: ”میرا باپ بوڑھا کمزور ہو چکا ہے اور اس کو اللہ کے فریضہ حج نے جو اس کے بندوں پر ہے، پا لیا ہے اور وہ اس کی ادائیگی کی طاقت نہیں رکھتا، کیا میں ان کی طرف سے ادا کروں تو ان کو کفایت کرے گا؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحج / حدیث: 931
تخریج حدیث اخرجه الترمذى، الحج، باب ماجاء أن عرفة كلها موقف (885) وقال حسن صحيح واحمد: 1/ 75، 81، 98 ، 157 - وصححه ابن خزيمة (3889)۔