حدیث نمبر: 927
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمٍ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَمْسِكَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، فَهَلْ تَرَى أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "نَعَمْ" . قَالَ سُفْيَانُ: هَكَذَا حَفِظْتُهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ.
حافظ محمد فہد

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے نبی ﷺ سے سوال کیا، اس نے کہا: ”اللہ کا فریضہ حج جو اس کے بندوں پر ہے، اس نے میرے بوڑھے باپ کو بھی پا لیا ہے لیکن اس میں اتنی سکت نہیں کہ وہ سواری پر بیٹھ سکیں۔ آپ کا کیا خیال ہے کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟“ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ سفیان نے کہا میں نے زہری سے اسی طرح یاد کیا ہے۔

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحج / حدیث: 927
تخریج حدیث اخرجه البخاري، الحج، باب وجوب الحج وفضله..... الخ (1513) ، (1855) ۔ ومسلم، الحج، باب الحج عن العاجز لزمانة وهرم ونحوهما أو للموت (1334)۔