حدیث نمبر: 926
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ، وَخَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ. فَقَالَ: وَيْلَكَ وَمَا شُبْرُمَةُ؟ قَالَ أَحَدُهُمَا: قَالَ: أَخِي، وَقَالَ الْآخَرُ: فَذَكَرَ قَرَابَةً، قَالَ: أَفَحَجَجْتَ عَنْ نَفْسِكَ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: فَاجْعَلْ هَذِهِ عَنْ نَفْسِكَ، ثُمَّ احْجُجْ عَنْ شُبْرُمَةَ. أَخْرَجَ الْأَرْبَعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ، وَالْخَامِسَ مِنْ كِتَابِ الْحَجِّ مِنَ الْأَمَالِي.
حافظ محمد فہد

ابوقلابہ سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا: ”میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں۔“ تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تیرے لیے ویل ہو! یہ شبرمہ کیا ہے؟“ ایوب اور خالد الحذاء میں سے ایک نے کہا کہ اس آدمی نے کہا: ”میرا بھائی ہے۔“ دوسرے نے کہا اس نے اپنی شبرمہ سے رشتہ داری بیان کی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا تو نے اپنی طرف سے حج کیا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ حج اپنی طرف سے ادا کرو پھر (بعد میں) شبرمہ کی طرف سے حج کرنا۔“

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحج / حدیث: 926
تخریج حدیث إسنادہ ضعیف لانقطاعہ فإن أبا قلابۃ عبد اللہ بن زید الجرمی لم یسمع من ابن عباس أخرجہ البیہقی: 4 / 337 - وفی معرفۃ السنن والآثار لہ (2676) ۔ والحديث صحيح انظر الحديث السابق برقم (925)۔