مسند الإمام الشافعي
كتاب الحج— حج کے مسائل کا بیان
بَابُ تَقْدِيمِ فَرْضِ الرَّجُلِ عَلَى نَذْرِهِ وَعَلَى فَرْضِ غَيْرِهِ باب: انسان کا اپنا فرض حج اپنی نذر اور دوسرے کے فرض حج پر مقدم رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 925
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: سَمِعَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَجُلًا يَقُولُ: لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَيْحَكَ وَمَا شُبْرُمَةُ؟ قَالَ: فَذَكَرَ قَرَابَةً لَهُ، فَقَالَ: أَحَجَجْتَ عَنْ نَفْسِكَ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: "فَاحْجُجْ عَنْ نَفْسِكَ ثُمَّ احْجُجْ عَنْ شُبْرُمَةَ" .حافظ محمد فہد
ابوقلابہ سے روایت ہے فرمایا: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک آدمی کو سنا وہ کہہ رہا تھا: ”میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں۔“ تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تو ہلاک ہو! یہ شبرمہ کیا ہے؟“ اس آدمی نے اپنی شبرمہ سے رشتہ داری کو بیان کیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”کیا تو نے اپنی طرف سے پہلے حج کیا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”پہلے اپنی طرف سے حج کر پھر شبرمہ کی طرف سے حج کرنا۔“