مسند الإمام الشافعي
كتاب الحج— حج کے مسائل کا بیان
بَابُ تَقْدِيمِ فَرْضِ الرَّجُلِ عَلَى نَذْرِهِ وَعَلَى فَرْضِ غَيْرِهِ باب: انسان کا اپنا فرض حج اپنی نذر اور دوسرے کے فرض حج پر مقدم رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 924
أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقُولُ: لَبَّيْكَ عَنْ فُلَانٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنْ كُنْتَ حَجَجْتَ فَلَبِّ عَنْهُ، وَإِلَّا فَاحْجُجْ" .حافظ محمد فہد
عطاء سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا کہ: ”میں فلاں کی طرف سے حاضر ہوں۔“ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو نے پہلے حج کیا ہوا ہے تو اس کی طرف سے لبیک کہہ اور اگر نہیں تو تو پہلے خود حج کر۔“