مسند الإمام الشافعي
كتاب الحج— حج کے مسائل کا بیان
بَابُ تَقْدِيمِ فَرْضِ الرَّجُلِ عَلَى نَذْرِهِ وَعَلَى فَرْضِ غَيْرِهِ باب: انسان کا اپنا فرض حج اپنی نذر اور دوسرے کے فرض حج پر مقدم رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 923
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقُولُ: لَبَّيْكَ عَنْ فُلَانٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنْ كُنْتَ حَجَجْتَ فَلَبِّ عَنْهُ وَإِلَّا فَاحْجُجْ عَنْ نَفْسِكَ، ثُمَّ احْجُجْ عَنْهُ" .حافظ محمد فہد
عطاء سے روایت ہے فرمایا کہ نبی ﷺ نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا کہ: ”میں فلاں کی طرف سے حاضر ہوں۔“ تو نبی ﷺ نے اسے کہا: ”اگر تو نے پہلے حج کیا ہوا ہے تو اس کی طرف سے تلبیہ کہہ، اگر نہیں تو پہلے اپنی طرف سے حج کر، پھر اس کی طرف سے ادائیگی کرنا۔“