مسند الإمام الشافعي
كتاب الحج— حج کے مسائل کا بیان
بَابُ تَقْدِيمِ فَرْضِ الرَّجُلِ عَلَى نَذْرِهِ وَعَلَى فَرْضِ غَيْرِهِ باب: انسان کا اپنا فرض حج اپنی نذر اور دوسرے کے فرض حج پر مقدم رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 922
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْقَدَّاحُ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: إِنِّي لَعِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَسُئِلَ عَنْ هَذِهِ، فَقَالَ: هَذِهِ حَجَّةُ الْإِسْلَامِ فَلْيَلْتَمِسْ أَنْ يَقْضِيَ نَذْرَهُ، يَعْنِي لِمَنْ كَانَ عَلَيْهِ الْحَجُّ وَنَذَرَ حَجًّا.حافظ محمد فہد
زید بن جبیر سے روایت ہے فرمایا: ”میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا کہ ان سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا: یہ اسلام کا حج ہے، اسے چاہیے کہ وہ اپنی نذر پوری کرے۔“ یعنی جس پر حج فرض ہے اور اس نے حج کرنے کی نذر مان لی۔