مسند الإمام الشافعي
كتاب الحج— حج کے مسائل کا بیان
بَابُ مَا يَجُوزُ لِلْمُحْرِمِ قَتْلُهُ باب: ان جانوروں کا بیان جنہیں محرم کے لیے مارنا جائز ہے
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مَيْمُونَ بْنِ مِهْرَانَ قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَجَلَسَ إِلَيْهِ رَجُلٌ لَمْ أَرَ رَجُلًا أَطْوَلَ شَعَرًا مِنْهُ. فَقَالَ: أَحْرَمْتُ وَعَلَيَّ هَذَا الشَّعَرُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ. اشْتَمَلَ عَلَى مَا دُونَ الْأُذُنَيْنِ مِنْهُ. قَالَ: قَبَّلْتُ امْرَأَةً لَيْسَتْ بِامْرَأَتِي. قَالَ: زَنَى فُوكَ. قَالَ: رَأَيْتُ قَمْلَةً فَطَرَحْتُهَا. قَالَ: تِلْكَ الضَّالَّةُ لَا تُبْتَغَى. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ، وَالثَّانِيَ وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ الْحَجِّ مِنَ الْأَمَالِي، وَالرَّابِعَ مِنْ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ، وَهُوَ آخِرُ حَدِيثٍ فِيهِ، وَالْخَامِسَ مِنْ كِتَابِ مُخْتَصَرِ الْحَجِّ الْكَبِيرِ.میمون بن مہران سے روایت ہے فرمایا، میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک آدمی آکر بیٹھ گیا، میں نے اس سے لمبے بالوں والا آدمی نہیں دیکھا، اس نے کہا میں نے احرام باندھا ہے جبکہ مجھ پر یہ بال ہیں، ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا، کانوں سے اوپر والے بالوں کو لپیٹ لے۔ اس آدمی نے پھر کہا، میں نے اپنی بیوی کے علاوہ ایک اور عورت کو بوسہ دیا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تیرے منہ نے زنا کیا“، اس آدمی نے پھر کہا میں نے ایک جوں دیکھی اور اسے پھینک دیا، تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ ایسی گمشدہ چیز ہے جس کی تلاش کا کوئی فائدہ نہیں۔“