مسند الإمام الشافعي
كتاب الحج— حج کے مسائل کا بیان
بَابُ لَحْمِ الصَّيْدِ فِي الْإِحْرَامِ باب: حالتِ احرام میں شکار کے گوشت کا بیان
أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ، وَسَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَأَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ التَّيْمِيِّ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ: أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ، تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ، وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ، فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا، فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ، فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا، فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ فَأَبَوْا، فَأَخَذَ رُمْحَهُ، فَشَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ، فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَى بَعْضُهُمْ، فَلَمَّا أَدْرَكُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: "إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ تَعَالَى" .ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مکہ کے راستے میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے۔ آپ اپنے چند ساتھیوں سمیت جو احرام میں تھے پیچھے رہ گئے اور خود (ابوقتادہ رضی اللہ عنہ) وہ احرام میں نہ تھے انہوں نے ایک جنگلی گدھا دیکھا، اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو گئے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے ساتھیوں سے (جو محرم تھے) کہا کوڑا اٹھا دیں، انہوں نے انکار کر دیا، پھر انہوں نے اپنا نیزہ مانگا، انہوں نے یہ دینے سے بھی انکار کر دیا، آخر خود اپنا نیزہ لیا، گدھے پر جھپٹ پڑے اور اسے مار گرایا، نبی ﷺ کے صحابہ میں سے بعض نے اس کا گوشت کھایا اور بعض نے انکار کر دیا، (احرام کی وجہ سے) پھر جب یہ رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے تو اس مسئلہ کے متعلق دریافت کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایک کھانا تھا جو اللہ تعالیٰ نے تم کو کھلایا۔“