حدیث نمبر: 897
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يَقُولُ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ جَرَادَةٍ قَتَلَهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِيهَا قَبْضَةٌ مِنْ طَعَامٍ وَلْيَأْخُذَنَّ بِقَبْضَةِ جَرَادَاتٍ وَلَكِنْ وَلَوْ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَوْلُهُ: وَلْيَأْخُذَنَّ بِقَبْضَةٍ جَرَادَاتٍ ، أَيْ إِنَّمَا فِيهَا الْقِيمَةُ، وَقَوْلُهُ: "وَلَوْ" ، يَقُولُ: يَحْتَاطُ بِقِيمَةٍ فَيُخْرِجُ أَكْثَرَ مِمَّا عَلَيْكَ، بَعْدَ مَا أَعْلَمْتُكَ أَنَّهُ أَكْثَرُ مِمَّا عَلَيْكَ .
حافظ محمد فہد

قاسم بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی نے آپ سے بحالتِ احرام ٹڈی مارنے کا مسئلہ پوچھا تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس میں مٹھی بھر کھانا (بطورِ فدیہ) ہے اور اسے چاہیے کہ وہ مٹھی بھر ٹڈیاں ضرور پکڑے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا کہ مٹھی بھر ٹڈیاں پکڑے، اس کا مطلب ہے کہ اس میں صرف قیمت ہی ہوگی اور آپ کے «ولو» کہنے کا مطلب ہے کہ اس قیمت کی ادائیگی میں احتیاط برتی جائے گی اور جو تجھ پر فرض ہے اس سے زیادہ نکالے گا، بعد اس کے کہ میں نے تمہیں بتلا دیا ہے کہ وہ اس سے زیادہ ہے جو تجھ پر فرض ہے۔

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحج / حدیث: 897
تخریج حدیث إسنادہ حسن أخرجہ البیہقی: 5 / 206 - وفی معرفۃ السنن والآثار لہ (3216)۔ وعبد الرزاق (8244)۔