مسند الإمام الشافعي
كتاب الحج— حج کے مسائل کا بیان
بَابُ مَا فِي بَيْضَةِ النَّعَامِ وَالْجَرَادِ وَالنَّهْيِ عَنْ صَيْدِ الْجَرَادِ فِي الْحَرَمِ باب: شتر مرغ کے انڈے اور ٹڈی کے احکام اور حدودِ حرم میں ٹڈی کے شکار کی ممانعت
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي عَمَّارٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ أَقْبَلَ مَعَ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، وَكَعْبِ الْأَحْبَارِ فِي أُنَاسٍ مُحْرِمِينَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ بِعُمْرَةٍ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ وَكَعْبٌ عَلَى نَارٍ يَصْطَلِي مَرَّتْ بِهِ رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ فَأَخَذَ جَرَادَتَيْنِ فَمَلَّهُمَا وَنَسِيَ إِحْرَامَهُ، ثُمَّ ذَكَرَ إِحْرَامَهُ فَأَلْقَاهُمَا. فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ دَخَلَ الْقَوْمُ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَدَخَلْتُ مَعَهُ فَقَصَّ كَعْبٌ قِصَّةَ الْجَرَادَتَيْنِ عَلَى عُمَرَ. فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَمَنْ بِذَلِكَ؟ لَعَلَّكَ بِذَلِكَ يَا كَعْبُ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّ حِمْيَرَ تُحِبُّ الْجَرَادَ، قَالَ: مَا جَعَلْتَ فِي نَفْسِكَ؟ قَالَ: دِرْهَمَيْنِ قَالَ: بَخْ دِرْهَمَانِ خَيْرٌ مِنْ مِائَةِ جَرَادَةٍ، اجْعَلْ مَا جَعَلْتَ فِي نَفْسِكَ.یوسف بن ماہک سے روایت ہے کہ عبداللہ بن ابی عمار نے اسے بتایا کہ وہ معاذ بن جبل اور کعب الاحبار رضی اللہ عنہما کے ساتھ لوگوں میں عمرہ کے لیے بیت المقدس سے حالتِ احرام میں آئے۔ یہاں تک کہ جب ہم راستے میں تھے اور کعب آگ سینک رہے تھے تو ان کے پاس سے ٹڈیوں کا ایک لشکر گزرا تو انہوں نے دو ٹڈیوں کو پکڑا اور انہیں بھون لیا اور اپنا احرام بھول گئے۔ پھر جب انہیں اپنا احرام میں ہونا یاد آیا تو ان کو پھینک دیا۔ جب ہم مدینہ آئے تو قوم والے عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور میں بھی آیا، تو کعب رضی اللہ عنہ نے ٹڈیوں کا عمر رضی اللہ عنہ سے قصہ بیان کیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”وہ کون ہے؟ شاید اے کعب وہ آپ ہیں؟“ کعب نے کہا: ”ہاں۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بے شک حمیر (یمن کا ایک قدیم قبیلہ) ٹڈیوں کو پسند کرتا ہے۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تم نے اپنے آپ پر کتنے فدیہ کا حساب لگایا ہے؟“ فرمایا: ”دو درہم۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”واہ! دو درہم تو سو ٹڈیوں سے بہتر ہیں، لہذا وہ رکھو جو تم نے اپنے آپ پر حساب لگایا ہے۔“