مسند الإمام الشافعي
كتاب الحج— حج کے مسائل کا بیان
بَابُ جَزَاءِ مَا يُصِيبُهُ الْمُحْرِمُ مِنَ الصَّيْدِ باب: محرم کے شکار کر لینے پر بدلے (جرمانہ) کا بیان
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُخَارِقٌ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: خَرَجْنَا حُجَّاجًا، فَأَوْطَأَ رَجُلٌ مِنَّا، يُقَالُ لَهُ: إِرْبِدُ، ظَبْيًا فَفَزَرَ ظَهْرَهُ فَقَدِمْنَا عَلَى عُمَرَ فَسَأَلَهُ إِرْبِدُ، فَقَالَ: احْكُمْ يَا إِرْبِدُ فِيهِ. فَقَالَ: أَنْتَ خَيْرٌ مِنِّي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَأَعْلَمُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: إِنَّمَا أَمَرْتُكَ أَنْ تَحْكُمَ فِيهِ، وَلَمْ آمُرْكَ أَنْ تُزَكِّيَنِي. فَقَالَ إِرْبِدُ: أَرَى فِيهِ جَدْيًا قَدْ جَمَعَ الْمَاءَ وَاشْتَجَرَ، فَقَالَ عُمَرُ: فَذَلِكَ فِيهِ.طارق بن شہاب سے روایت ہے فرمایا: ”ہم حج کے لیے نکلے تو ہم میں سے ایک آدمی جس کا نام اربد تھا نے ایک ہرن کا شکار کیا اور اس کی پیٹھ پر زخم کر دیا۔ ہم عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو آپ رضی اللہ عنہ سے اربد نے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: اربد تو خود اس میں فیصلہ کر (کہ تجھے کیا فدیہ دینا ہے) اس نے کہا: اے امیر المومنین! آپ مجھ سے بہتر اور زیادہ علم والے ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: میں تجھے حکم دیتا ہوں کہ تو اس میں فیصلہ کر، میں نے تجھے یہ حکم نہیں دیا کہ میری صفات بیان کر، تو اربد نے کہا: میرے خیال میں اس کا فدیہ ایک ایسی بکری ہے جو چرنے کے قابل ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا (تصدیق کرتے ہوئے): یہی ہے اس کا فدیہ۔“