مسند الإمام الشافعي
كتاب الحج— حج کے مسائل کا بیان
بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ، وَمَا لَيْسَتْ لَهُ رُخْصَةٌ وَمَا يُكَفَّرُ عَلَيْهِ النَّعَمُ عِنْدَ الْبَيْتِ باب: اللہ کا فرمان : ”حالتِ احرام میں شکار نہ کرو“ اور وہ جانور جن کے شکار کی اجازت نہیں اور کعبہ کے پاس چوپایوں کا فدیہ
حدیث نمبر: 882
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ [الْبَقَرَةِ: 196] لَهُ أَيَّتَهُنَّ شَاءَ. أَخْرَجَ الْخَمْسَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ.حافظ محمد فہد
عمرو بن دینار سے اللہ کے فرمان: ”فدیہ ہے خواہ روزے رکھ لے، خواہ صدقہ کرے، خواہ قربانی کر دے۔“ (البقرہ: 196) کے متعلق روایت ہے کہ اس میں اختیار ہے جو چاہے کرے۔